اسرائیلی فائرنگ سے مبینہ فلسطینی حملہ آور ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے اس فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جس نے مبینہ طور پر دو یہودیوں کو چاقو کے وار کرکے زخمی کر دیا تھا۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ شدت پسندوں نے غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل پر ایک راکٹ داغا ہے۔ حکام کے مطابق راکٹ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعے میں ایک 16 برس کے فلسطینی نوجوان نے 60 برس سے زیادہ عمر کے دو یہودیوں کو چاقو مار کر زخمی کر دیا تھا۔
ادھر فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والا فلسطینی ہلاک ہوگیا ہے۔ حماس کے مطابق مذکورہ شخص اس کا رکن تھا۔
گزشتہ ہفتہ کے دوران علاقے میں تشدد کے پے در پے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔
جمعہ کے روز اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کے ساتھ سرحد پر فائرنگ کرکے ساتھ فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ تھا کہ فلسطینی مظاہرین نے ان پر دستی بم اور راکٹ سے حملہ کیا تھا اور ان کی طرف جلتے ہوئے ٹائر اچھالے تھے۔
یہ فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں تازہ اضافہ ستمبر کے وسط میں اس وقت ہوا جب مسجد الاقصیٰ کے اندر فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔
فلسطینی نوجوان مسجدالاقصیٰ کے اندر مسلمانوں کے لیے مخصوص حصے میں یہودیوں کے داخلے کے مخالف ہیں۔
سنیچر کو پیش آنے والا چاقوزنی کا واقعہ حالیہ کشیدگی کی تازہ مثال ہے۔
اسرائیل نے فلسطینیوں کی کارروائی کا جواب دینے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کیے ہیں۔
تشدد میں اضافے کے بعد حماس نے، جس کا اثر غزہ میں بہت زیادہ ہے، ایک نئے انتفادہ (فلسطینی یورش) کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تاہم یہ جھڑپیں اس سے قبل ہونے والے انتفادہ کی سطح تک نہیں پہنچی ہیں۔







