یروشلم میں اسرائیل کی پابندیوں کے خلاف احتجاج

،تصویر کا ذریعہ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے یروشلم میں دو اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے بعد فلسطینی شدت پسندوں کے گھروں کو تیزی سے مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔
سنیچر کو یروشلم میں ایک فلسطینی شخص نے چاقو سے حملہ کر کے دو اسرائیلیوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا تھا۔
اس کے واقعے کے بعد وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے گھروں کو مسمار کرنے کے علاوہ کہا ہے کہ مشتبہ فلسطینوں کو بغیر مقدمے کے حراست میں لینے میں اضافہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں کی قدیمی شہر میں دو دنوں کے لیے داخلے پر پابندی لگائے جانے کے خلاف فلسطینی شہری احتجاج کر رہے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی اقدامات کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز اور یہودی آبادکاروں سے جھڑپوں میں 70 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ایک فلسطین نوجوان اسرائیلی سکیورٹی کی چیک پوسٹ کے قریب ہلاک ہو گیا ہے جبکہ غزہ سے اسرائیل کی حدود میں دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی کی قدیمی شہر میں پابندیوں کے تحت جو فلسطینی قدیمی شہر میں رہتے ہیں بس انھیں ہی وہاں جانے کی اجازت ہوگی جبکہ اسرائیلی، مقامی تاجروں اور سکول کے بچوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAP
اطلاعات کے مطابق حملے کا شکار افراد انتہائی قدامت پسند یہودی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ایک فلسطینی نے ایک اسرائیلی نوجوان کو زخمی کر دیا جبکہ پولیس نے بعد میں حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔
خیال رہے کہ چاقو زنی کے یہ واقعات غربِ اردن میں اسرائیلی جوڑے کے قتل کے دو دن بعد ہوئے ہیں۔
چاقو زنی کا پہلا واقعہ یہودیوں کی عبادت کے دن یوم السبت کے اختتام پر قدیمی شہر کے لائنز گیٹ پر پیش آيا۔ ہلاک ہونے والے افراد مسجد الاقصیٰ کے دروازے سے مغربی دیوار تک جانے کے لیے داخل ہوئے تھے۔
پولیس نے حلمہ آور کی شناخت غربِ اردن کے علاقے رملا میں البیرہ کے رہنے والے 19 سالہ نوجوان سے کی۔
جنگجو گروہ جہاد الاسلامی میں ایک بیان میں اسے اپنی تنظیم کا رکن قرار دیا۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں فلسطینی اور اسرائیلی باشندوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ میں فلسطینی رہنما محمود عباس نے اسرائیل پر یروشلم اور غربِ اردن میں ’اشتعال انگیز حالات پیدا کرنے‘ اور ’وحشیانہ طاقت کے استعمال‘ کا الزام عائد کیا تھا جبکہ بن یامین نتن یاہو نے عباس سے ’جھوٹ پھیلانے سے باز رہنے‘ اور امن کی جانب واپس آنے کی بات کہی تھی۔







