جھڑپوں کے بعد اسرائیل نے یروشلم کی سکیورٹی بڑھا دی

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل نے سکیورٹی فورسز اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد یروشلم میں سینکڑوں کی تعداد میں اضافی پولیس تعینات کردی ہے۔
زیادہ تر کشیدگی اسلام اور یہودیت کی مشترکہ اہم مقدس جگہ مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں ہے۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے مسجدِ اقصیٰ کے معاملے پر’شدید غصے کا دن‘ منانے کا اعلان کیا تھا۔
فلسطینیوں میں اسرائیلی کی اس حکمت عملی پر بھی غصہ پایا جاتا ہے جن کے تحت پولیس کو پتھراؤ کرنے والوں پرگولیاں چلانے کی اجازت ہوگی۔
رواں ہفتے یروشلم میں ایک اسرائیلی ڈرائیور کار حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ پتھراؤ اس کی وجہ بنی۔
جمعے کو پیش آنے والے وقعات میں فلسطینی علاقے غزہ سے اسرائیل پر کم از کم دو راکٹ داغے گئے۔ جن کے نتیجے میں ایک بس کو نقصان پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس کے مطابق مشرقی یروشلم میں تین سرحدی محافظ بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوگئے اور مشرقی یروشلم میں ہی ایک بس پر پتھراؤ کے بعد اُسے نظرِ آتش کردیا گیا۔
مقبوضہ غرب اردن کے کئی علاقوں میں متعدد جھڑپیں ہوئیں۔ جبکہ فلسطینی ریڈ کریسنٹ ایمرجنسی یونٹ کے مطابق سات فلسطینی آگ میں جلائے جانے سے زخمی ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہزاروں کی تعداد میں اردن کے باشندوں نے عمان میں یکجہتی مارچ کی۔
اطلاعات کے مطابق مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں امن ہے۔ اسرائیلی پولیس نے قریبی مقامات پر چوکیاں قائم کردی ہیں اور 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو ہی عبادت کے لیے وہاں جانے کی اجازت ہے۔
واضح رہے کہ یروشلم میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب مسجدالاقصیٰ میں یہودی زائرین کے داخلے کی مخالفت کرنے پر اسرائیلی حکومت نے دو مسلمان گروہوں پر پابندی لگا دی۔







