سعودی عرب کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب نے مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شدت پسندی اور تشدد بڑھ سکتا ہے۔
<link type="page"><caption> بیت المقدس میں تیزی سے کشیدہ ہوتی صورتِ حال</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/11/141108_jerusalem_tensions_spiral_zz" platform="highweb"/></link>
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب قابض اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے تقدس کی خلاف ورزی کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
سرکاری ذرائع نے اسرائیلی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور یہ شدت پسندی اور تشدد کو فروغ دینے کا باعث بن سکتی ہیں۔
مسجد اقصیٰ میں گذشتہ اتوار کو فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان شروع ہونے ولی جھڑپیں کئی روز تک جاری رہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز پر اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سعودی سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں اس مقام کے تقدس کی کھلی خلاف ورزیاں ہیں جس کا مسلمان مقدس عبادت گاہ کے طور پر اور یہودی اس کی ٹمپل ماؤنٹ کے طور پر احترام کرتے ہیں۔
منگل کو اسرائیل پولیس نے مسجد اقصیٰ سے پتھراؤ کرنے والے فلسطینیوں پر سٹن گرینڈز اور آنسو گیس پھینکی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے شاہ سلمان نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے رابطہ کر کے انھیں بتایا تھا کہ وہ مسجد کے معاملے پر عالمی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ کے وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اسے تشدد کے واقعات پر گہری تشویش ہے اور اس نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشتعال انگیزی اور اکسانے والے بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔
مسجد اقصیٰ اسلام کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے اور یہودی بھی اس عبادت گاہ کا احترام کرتے ہیں۔
یہ مقدس جگہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیاسی اور مذہبی کشیدگی کا باعث رہی ہے اور اکثر یہاں سے پرتشدد واقعات کی ابتدا ہوتی ہے۔
حالیہ جھڑپیں گذشتہ اتوار کو یہودیوں کے نئے سال’روش ہاشونا‘ کے آغاز پر شروع ہوئی تھیں۔
پولیس نے کہا تھا کہ وہ ہنگاموں کو روکنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد مسجد میں مورچہ بند فلسطینیوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور اس کے جواب میں پولیس نے سٹن گرینڈز اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
فلسطینی مظاہرین کو خدشہ ہے کہ اسرائیل ان قوانین کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جن کے تحت یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت تو ہے لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کر سکتے۔
ان خدشات پر اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مسجد کے موجودہ قواعد و ضوابط کو برقرار رکھا جائے گا۔







