اسرائیلی فوج نے دو فلسطینی عسکریت پسندوں کے گھر تباہ کر دیے

فلسطینی صدر محمود عباس نے فوجی کونسل اور سکیورٹی کمانڈروں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفلسطینی صدر محمود عباس نے فوجی کونسل اور سکیورٹی کمانڈروں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے

اسرائیلی فوج نے دو فلسطینی عسکریت پسندوں کے گھر تباہ کر دیے ہیں جبکہ ایک اور عسکریت پسند کے گھر کے ایک حصے کو سیل کر دیا ہے۔

یہ کارروائی منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن ہاہو کی ہدایت پر فلسطینیوں کے حملوں میں چار اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد کی گئی ہے۔

حالیہ کچھ ہفتوں میں مشرقی یروشلم اور مقبوضہ غرب اردن میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

<link type="page"><caption> غربِ اردن میں فائرنگ سے اسرائیلی جوڑا ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151002_israel_westbank_shooting_murder_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> یروشلم میں اسرائیل کی پابندیوں کے خلاف احتجاج</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151004_palestinian_kill_two_israeli_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> مسجد الاقصیٰ میں جھڑپوں کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/09/150915_al_aqsa_mosque_clash_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

گذشتہ جمعرات سے اب تک چار اسرائیلی ہلاک اور تین زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کا الزام فلسطینی عسکریت پسندوں پر عائد کیا جاتا ہے۔

اتوار سے اب تک دو فلسطینیوں کی ہلاکت کے علاوہ غرب اردن میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 170 کے قریب افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

پیر کی شب فلسطینی صدر محمود عباس نے سکیورٹی حکام کا اجلاس بھی طلب کیا تھا۔

فلسطین کے سرکاری خبررساں ادارے وافا کے مطابق فلسطینی صدر نے فوجی کونسل اور سکیورٹی کمانڈروں کو چوکس رہنے اور اسرائیل کی جانب سے صورت حال کو مزید خراب کرنے کا موقع فراہم نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

حالیہ کچھ ہفتوں میں مشرقی یروشلم اور مقبوضہ غرب اردن میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحالیہ کچھ ہفتوں میں مشرقی یروشلم اور مقبوضہ غرب اردن میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس فلسطینی کے خاندان کا گھر گرا دیا گیا ہے جس نے نومبر 2014 میں چار یہودی راہبوں اور یروشلم میں ایک یہودی عبادت گاہ میں ایک پولیس اہلکار کو قتل کیا تھا۔

بیان کے مطابق پولیس نے اس حملے میں ملوث دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

تباہ کیے جانے والا دوسرا گھر اگست 2014 میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک فلسطینی کا تھا، جس نے یروشلم میں ایک تعمیراتی گاڑی ایک راہگیر پر چڑھا دی تھی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق گھر تباہ کرنے کی کارروائیاں ممکنہ حملہ آوروں کو اس کام سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن ہاہو کو دائیں بازو کی حکومت اور یہودی آبادکاروں کی جانب سے دباؤ کا بھی سامنا ہے اور پیر کو انھوں نے تشدد کو دبانے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات دی تھیں۔