عالمی سطح پر جوہری تنصیبات کو سائبر حملے کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے جوہری بجلی پلانٹوں کو شدید سائبر حملوں کا خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ممالک اپنے جوہری بجلی گھروں کو اس خطرے سے بچانے کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے کنٹرول نظام ’ڈیزائن کے لحاظ سے ہی غیر محفوظ ہیں۔‘ اس کی ایک وجہ ان کی عمر ہے۔
اس رپورٹ کو لندن کے اہم تھنک ٹینک چیٹہیم ہاؤس نے شائع کیا ہے اور اس نے 18 مہینوں کے دوران سائبر حملوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں موجود بجلی گھروں کے دفاعی نظام کا مطالعہ کیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ سائبر مجرمان، سرکاری ہیکروں اور دہشت گرد سب اپنی آن لائن سرگرمی میں اضافہ کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انٹرنٹ پر مبنی حملے کا شدید خطرہ ’ہمیشہ سے موجود ہے۔‘
کسی جوہری پلانٹ پر کسی قسم کا حملہ خواہ وہ چھوٹے پیمانے پر کیوں نہ ہو یا اس کے ہونے کا امکان بہت ہی کم کیوں نہ ہو اسے سنجیدگی سے لیے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر شعاع ریزی ہوتی ہے تو وہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے ساتھ رپورٹ میں کہا گیا ہے ’جوہری تنصیبات پر چھوٹے پیمانے پر بھی ہونے والا سکیورٹی حملہ رائے عامہ پر اور شہری استعمال کی جوہری صنعت کے مستقبل پر شدید اثر ڈالے گا۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے جرہری پلانٹ بھی بہت محفوظ اور تیار نہیں ہے کیونکہ حال ہی میں وہ ڈیجیٹل سسٹم میں تبدیل کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میں کہا گیا ہے کہ ان پلانٹس کو تیزی سے ڈیجیٹلائز کرنے اور زیادہ سے زیادہ کمرشیئل سافٹ ویئر پر انحصار کرنے سے اس شعبے کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بس ایک ’عام سی کہانی‘ ہے کہ پاور پلانٹس کو بہت حد تک انٹرنیٹ سے دور رکھا گیا اور یہ اس قسم کے سائبر حلموں سے محفوظ ہے جس کا دوسرے شعبے شکار ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’بس ایک دھوکہ ہے‘ اور اسے بہ آسانی پار کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ تباہ کن سٹکسنیٹ کمپیوٹر وائرس نے اسی طرح ایران کے جوہری فیسیلیٹیز کو متاثر کیا۔
چیٹم ہاؤس نے شہری جوہری صنعت کو سائبر حملے کے خطرات کے پیش نظر اپنے حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی بات کہی ہے۔







