چین کے سائبر حملے ’قابل قبول‘ نہیں ہیں: صدر اوباما

انھوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو سائبر سپیس سے متعلق عام قوانین پر اتفاق کرنا پڑے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانھوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو سائبر سپیس سے متعلق عام قوانین پر اتفاق کرنا پڑے گا

امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ چین کے مبینہ سائبر حملے کسی صورت بھی ’قابلِ قبول‘ نہیں ہیں۔ صدر اوباما نے یہ بیان ایک ایسے موقعے پر دیا ہے جب چین کے صدر شی جن پنگ امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

چین پر الزام ہے کہ اُس نے کئی امریکی اداروں کی ویب سائٹس اور لاکھوں سرکاری ملازمین کے اکاؤنٹس ہیک کیے ہیں۔

چین کے صدر رواں ماہ کے آخر میں واشنگٹن کا دورے کریں گے۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس طرح کے حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنا نظام مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نیویارک کے ایک ہوٹل میں مزید قیام نہیں کریں گے۔ یہ ہوٹل ایک چینی کمپنی نے گذشتہ سال خریدا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ ہوٹل کی خریداری کا چینی جاسوسی سے کوئی تعلق ہے۔

ترجمان نے کہا کہ’بہت سی چیزیں زیر غور ہیں جیسے صدر جب وائٹ ہاؤس میں نہیں ہوں گے تو کہاں قیام کریں گے۔ دستیاب جگہ سے لے کر سکیورٹی اور اخراجات تک ان تمام چیزوں پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

صدر اوباما نے اپنے تاثرات کا اظہار میری لینڈ میں امریکی فوجی حکام کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔

انھوں نے کہا کہ’ہم نے چین کو بہت واضح انداز میں بتا دیا ہے کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن میں وہ ملوث پائے گئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب چین کی جانب سے کی جارہی ہیں اور یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔‘

انھوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو سائبر سپیس سے متعلق عام قوانین پر اتفاق کرنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ’یہ ایک ایسا نکتہ ہے جسے ہم قومی سلامتی کو لاحق اہم خطرہ سجمھتے ہیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

لیکن ان کا کہنا تھا کہ چین کو آن لائن تصادم سے ڈرنا چاہیے:’میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ اگر ہم یہ کرلیں تو ہم جیت جائیں گے۔‘

امریکی انتظامی عملے کے دفتر پر مبینہ چینی حملے سے قطع نظر امریکی استغاثہ نے گذشتہ سال پانچ چینی فوجی افسران پر اقتصادی جاسوسی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

لیکن دوسری جانب چین نے کہا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے سائبر حملوں کا سامنا ہے۔ الزام کی توثیق کرتے ہوئے بیجنگ کا کہنا ہے کہ ان انکشافات کی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے بھی کی ہے۔