’چین اور امریکہ سائبر اقتصادی جاسوسی نہ کرنے پر متفق‘

سائبر حملوں کے حوالے سے چین اور امریکہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسائبر حملوں کے حوالے سے چین اور امریکہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں

امریکی صدر براک اوباما اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے بتایا کہ دونوں ممالک نے سائبر اقتصادی جاسوسی سے گریز کرنے اور اس عمل میں ملوث عناصر کی مدد نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت تجارتی رازوں کی سائبر چوری تو آتی ہے تاہم قومی سلامتی کی معلومات پر یہ معاہدہ لاگو نہیں ہوتا۔

چین اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کے تجارتی راز چرانے سے انکار کرتے ہیں تاہم امریکی استغاثہ نے گذشتہ سال پانچ چینی فوجی افسران پر اقتصادی جاسوسی کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔

براک اوباما نے کہا کہ اگر امریکہ کے خلاف چین کے مبینہ سائبر جرائم میں اضافہ ہوا تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسے بند ہونا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا الفاظ اقدامات کا روپ دھارتے ہیں؟‘

براک اوباما نے خبردار کیا کہ سائبر حملوں کی صورت میں افراد، کاروباروں اور ریاستی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

’سائبر مجرموں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں ہمارے پاس جو بھی حربے ہیں ہم استعمال کریں گے۔‘

چینی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک ’جانتے بوجھتے‘ ایسی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے اور دونوں سائبر سپیس کے رواج کی پاسداری کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تنازع یا کھنچاؤ فریقین کے لیے درست چیز نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ چین کے مبینہ سائبر حملے کسی صورت بھی ’قابلِ قبول‘ نہیں ہیں۔

دوسری جانب چین کا موقف ہے کہ اسے خود امریکہ کی جانب سے سائبر حملوں کا سامنا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کے خدشات کی توثیق سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے بھی کی ہے۔