’چین نے امریکی تجارتی راز اور معلومات چوری کیں‘

رواں سال کے اوائل میں امریکی حکام نے امریکی حکومت کی ایجنسی میں وسیع پیمانے پر ریکارڈز کی ہیکنگ کے سلسلے میں چین پر سب سے زیادہ شبہہ ظاہر کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنرواں سال کے اوائل میں امریکی حکام نے امریکی حکومت کی ایجنسی میں وسیع پیمانے پر ریکارڈز کی ہیکنگ کے سلسلے میں چین پر سب سے زیادہ شبہہ ظاہر کیا تھا

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے چین پر تجارتی راز اور حکومت کی معلومات چرانے کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے چین پر ان ’تمام چیزوں کو ہیک کرنے کا الزام عائد کیا جو امریکہ میں اپنی جگہ سے نہیں ہلتے‘ کے ساتھ ساتھ نگرانی میں اضافے پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال کے اوائل میں امریکی حکام نے امریکی حکومت کی ایجنسی میں وسیع پیمانے پر ریکارڈز کی ہیکنگ کے سلسلے میں چین پر سب سے زیادہ شبہہ ظاہر کیا تھا۔

چین نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی شمولیت کو مسترد کرتے ہوئے امریکی دعوے کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا تھا

نیو ہیمشائر میں اپنی صدارتی امیدواری کی مہم کی ایک تقریب میں سابق وزیر خارجہ اور امریکہ کی سابق خاتونِ اول ہلیری کلنٹن نے کہا کہ چین دفاعی کنٹریکٹروں سے راز چرا رہا تھا اور ’اس نے حکومت کی وسیع معلومات اڑا لیں تاکہ اسے سبقت حاصل رہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ چین کی پرامن ترقی چاہتی ہیں لیکن امریکہ کو ’پوری طرح سے چوکنا‘ رہنے کی ضرورت ہے۔

ہلیری کلنٹن نے کہا ’چین کی فوج میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، وہ عسکری تنصیبات قائم کر رہے ہیں جن سے فلپائن جیسے ان ممالک کو خطرہ ہے جن کا ہمارے ساتھ معاہدہ ہے کیونکہ وہ متازع زمین پر یہ تعمیرات کر رہے ہیں۔‘

امریکہ نے چین کو اس سے قبل بھی سائبر حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ نے چین کو اس سے قبل بھی سائبر حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے

امریکی حکام نے آفس آف پرسونل مینجمنٹ (او پی ایم) کے اعدادوشمار کے سلسلے میں ہونے والی بڑی چوری کا الزام چین پر عائد کیا تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے کمپیوٹرز سے 40 لاکھ ملازمین کے اعدادوشمار اڑا لیے گئے ہوں۔

امریکی انٹلیجنس کےسربراہ جیمز کلیپر نے اس معاملے میں چین کو ’نمایاں مشتبہ ملزم‘ بتایا تھا تاہم چین نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

ریپبلیکن جماعت کی صدارتی امیدوار نے اس او پی ایم سائبر ہیکنگ کو صدر اوبامہ کی انتظامیہ پر حملے کے لیے استعال کرتے ہوئے اس پر ’نااہلی‘ کا الزام لگایا ہے۔

میکرو روبیو اور رکی پیرے نے اس ہینگنگ میں شامل تنظیم کے خلاف پابندی کی بات کہی ہے جبکہ مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ امریکہ کو جوابا چین کی ہیکنگ کرنی چاہیے۔

دریں اثنا ڈیموکرٹک امیدوار مارٹن او میلی نے سائبر سکیورٹی کے لیے بہتر فنڈنگ کی بات کہی ہے۔