’ہلیری اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتیں‘

حقوق نسواں کے بارے میں ہیلری کلنٹن کے بیان پر چین میں شدید رد عمل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحقوق نسواں کے بارے میں ہیلری کلنٹن کے بیان پر چین میں شدید رد عمل

امریکہ میں صدارتی انتخابات کی امیدوار ہلیری کلنٹن کے حقوق نسواں پر چین کے کردار پر منفی بیان دینے سے چین نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

چین میں ہلیری کلنٹن کو ’منہ پھٹ‘ سے لے کر ’مونیکا لیونسکی‘ کہہ کر مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہلیری کلنٹن نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں چینی صدر کو خواتین کے حقوق پر اقوام متحدہ کی کانفرنس کی صدرات کرنے پر ’بے شرم‘ کہا تھا۔

چینی صدر شی جن پنگ کو اس کانفرنس کی صدارت کرنے پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رواں سال چین میں پبلک ٹرانسپورٹ میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کرنے والی حقوق نسواں کی تنظیموں کی کئی کارکنوں کوگرفتار کر لیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنطیموں کا کہنا ہے کہ کئی خواتین کارکن اب بھی جیلوں میں قید ہیں۔

ہلیری کلنٹن نے خواتین کے حقوق کو اپنی انتخابی مہم کا ایک اہم حصہ بنایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

چین کے سرکاری میڈیا نے صدر شی جن پنگ کو ایک ملنسار اور پسندیدہ شخصیت کے طور پر پیش کرنے کا ذمہ لیا ہوا ہے۔

چینی تہذیب میں کسی کو ’بے شرم‘ کہنا بے عزتی سمجھا جاتا ہے جس سے لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے نفرت پیدا ہو سکتی ہے اور آپ کی تذلیل کی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چین کے سرکاری میڈیا نے توقع کے مطابق شدید غصے کا اظہار کیا، جس میں چینی اخبار گلوبل ٹائمز کا سخت الفاظ پر مبنی ایک اداریہ بھی شامل ہے جسے انگریزی اور چینی دونوں زبانوں میں شائع کیا گیا ہے جسے دیگر مقامی میڈیا پر بھی چلایا جا رہا ہے۔

چینی میڈیا نے ہلیری کلنٹن پر الزام لگایا ہے کہ وہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر چل رہی ہیں جو خود بھی ووٹ حاصل کرنے کے لیے چین کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور چین کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دیتے رہتے ہیں۔

چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کے انگریزی اداریے میں کہاگیا ہے کہ ہلیری کلنٹن ’عوام کو اکسانے‘ کی کوشش کر رہی ہیں، جو اپنی مقبولیت کے لیے ’بے ہودہ الزامات‘ لگانے سے بھی اجتناب نہیں کرتیں۔

چین میں ہیلری کلنٹن کا موازنہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنچین میں ہیلری کلنٹن کا موازنہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کیا جا رہا ہے

لیکن اخبار کے چینی اداریے نے اس سے بھی کھلے الفاظ میں لکھا ہے کہ ’ایسا لگتاہے کہ ہلیری خوف کے مارے حواس کھو بیٹھی ہیں۔ ان کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو چکی ہیں، انھوں نے ٹرمپ کے انداز میں بولنا شروع کر دیا ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک جھگڑالو منہ پھٹ کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔‘

’انھوں نے واقعی اپنا مقام بہت نیچے گرا لیا ہے۔ چینی عوام میں ان کے لیے غصے کے نہیں بلکہ نفرت کے جذبات بھڑکنا شروع ہوگئے ہیں۔‘

چینی میڈیا نیویارک میں موجود چینی وفد کا ردعمل بھی پیش کر رہا ہے جس کا کہنا ہے کہ ان خواتین کارکنان کو ’اس وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے مظاہرہ کر رہی تھیں بلکہ ان کو گرفتار کرنے کی وجہ چینی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔‘

انٹرنیٹ پر اس ردعمل میں تقسیم نظر آتی ہے۔

قوم پرست چینیوں کی جانب سے بلاگنگ نیٹ ورک سینا ویبو پر غصے میں ہلیری کو ’بوڑھی چڑیل‘ کہا گیا ہے۔ اور سابق وائٹ ہاؤس انٹرن مونیکا لیوئنسکی کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے جو ہلیری کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ معاشقے کی وجہ سے مشہور ہیں۔

مونیکا لیونسکی ہیلری کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ معاشقے کی وجہ سے مشہور ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمونیکا لیونسکی ہیلری کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ معاشقے کی وجہ سے مشہور ہیں

نیٹ ورک کی ایک صارف لیوو بیان شونگ نے لکھا ہے کہ ’ہلیری آپ کو جلدی سے گھر پہنچنا چاہیے کیونکہ لیونسکی آپ کے شوہر بل کے ساتھ آپ کے بستر پر پہلے ہی سے موجود ہیں۔ آپ چین کے بارے میں الٹے سیدھے بیانات دینے کے بجائے اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتیں۔‘

تاہم کچھ لوگ ہلیری کا ساتھ بھی دے رہے ہیں اور ان خواتین کارکنوں کی حراست اور چین میں خواتین کے حقوق کی ابتر حالت پر تنقید کر رہے ہیں۔

ایک شخص نے کہا ہے کہ ’ہلیری خواتین کی حراست پر تنقید نہیں کر رہی بلکہ ان کو غلط الزامات کے وجہ سے قید کرنے پر اعتراض کر رہی ہیں۔‘

ایک اور صارف تی لینن جیانگ توئی نے چین کے ایک خاندان ایک بچے کی پالیسی کا حوالی دیتے ہوئے کہا کہ ’چینی خواتین اپنی مرضی سے اولاد تو پیدا کر نہیں سکتیں، تو باقی حقوق تو دور کی بات ہیں۔‘

اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہاجا سکتا کہ ہلیری کلنٹن نے اس چینی شور شرابے کی طرف کوئی توجہ دی ہے یا نہیں۔ اگر ہاں تو ابھی تک ان کا کوئی فوری جواب آجانا چاہیے تھا۔

اس دوران ان کی انتخابی مہم کی ٹیم نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کی ایک تازہ ٹویٹ میں خواتین کے حقوق کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔