ہیلری کلنٹن کی ای میلز آن لائن شائع کر دی گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے ملک کی سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ سے بھیجی جانے والی سینکڑوں ای میلز کو آن لائن جاری کر دیا ہے۔
ان میں سے زیادہ تر ای میلز لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے سے متعلق ہیں۔
اس سے پہلے یہ ای میلز کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔
<link type="page"><caption> ’ذاتی اور سرکاری ای میلز الگ رکھتی تو بہتر تھا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/03/150310_hillary_email_scandal_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
ہلیری کلنٹن کی مزید ای میلز آنے والے ہفتوں میں جاری کی جائیں گی۔
ہلیری کلنٹن وزیر خارجہ کے طور پر ذاتی ای میل اکاؤنٹ کے استعمال کا کئی بار دفاع کر چکی ہیں۔
گذشتہ ماہ ہی ہلیری کلنٹن نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مارچ میں ہلیری کلنٹن تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ رہتے ہوئے بھی اپنے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کو استعمال کیا تھا۔
اس وقت انھوں نے کہا تھا: ’جب میں وزیر خارجہ تھی تو میں نے اپنی سہولت کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کا ہی استعمال کیا اور ایسا کرنے کی اجازت وزارت خارجہ میں تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ آسان ہو گا کیونکہ ذاتی اور سرکاری ای میل بھیجنے کے لیے مجھے دو دو فون لے کر نہیں چلنا ہوگا۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ ’اب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کہ بہتر ہوتا کہ اگر میں سرکاری ای میل اکاؤنٹ کا استعمال کرتی اور دوسرا فون بھی لے کر چلتی، لیکن اس وقت میرے لیے یہ بات مسئلہ ہی نہیں تھی۔‘
امریکی قوانین کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تمام خط و کتابت کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ہلیری جنوری 2009 سے لے کر فروری 2013 تک امریکہ کی وزیر خارجہ رہیں اور اس دوران انہوں نے تقریبا 60 ہزار ای میلز بھیجیں جن میں سے تقریباً آدھی ذاتی نوعیت کی تھیں۔
امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں تقریباً 55 ہزار صفحات پر شائع شدہ یہ ای میل ملی ہیں اور جائزے کے بعد انہیں وقفے وقفے سے جاری کر دیا جائے گا۔







