امریکی دفتر خارجہ سے ہلیری کلنٹن کی ہزاروں ای میلز جاری

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی دفتر خارجہ نے سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ہزاروں صفحات پر مبنی ای میلز جاری کر دی ہے جن میں 150 حساس معلومات پر مبنی قرار دی گئی ہیں۔
اب سے تھوڑی دیر قبل جاری کی جانے والی ای میلز سرکاری سرور کے بجائے ہلیری کلنٹن کے ذاتی سرور پر موجود تھیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آج جاری کی جانے والی ای میلز کی تعداد چار ہزار سے زائد بتائی گئی ہے۔ ان میں ڈیڑھ سو ایسے ای میل بھی شامل ہیں جنھیں انتہائی حساس ہونے کی وجہ سے بعد میں ’کلاسیفائڈ‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ یہ ای میلز پہلے ریلیز نہیں کی گئی تھیں۔
ہلیری کلنٹن نے اس معاملے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سرکاری مراسلے بھیجنے کے لیے پرائیوٹ سرور کا استعمال کیا تاہم انھوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی حساس معلومات باہر نہیں آئیں۔
اب امریکہ کا تفتیشی ادارہ ایف بی آئی اس بات کی تفتیش کر رہا ہے کہ کیا حساس معلومات والے اہم مراسلے غیر مناسب طریقے سے تو نہیں بھیجے گئے۔
خیال رہے کہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے بطور وزیرِ خارجہ ذاتی ای میل سرور کا استعمال آئندہ سال سنہ 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی مہم کا ایک مسئلہ بن گیا ہے۔
اب ان ای میلز کو ’کلاسیفائڈ یا اس سے اوپر کے درجے‘ میں رکھا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ذاتی سرور سے نہیں بھیجا جانا چاہیے تھا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے نمائندوں کو بتایا: ’میرے خیال سے یہ کوئی ڈیڑھ سو ای میلز ہوں گی۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ باقی ماندہ ای میلز کو جاری کرنے کا سلسلہ چلتا رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
حکام کے مطابق گذشتہ ماہ دوسرے 63 ای میلز کو ’کسی نہ کسی شکل میں اپ گریڈ‘ کیا گیا تھا۔
ہلیری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دور میں شامل ہیں اور نمایاں امیدوار ہیں۔
مسز کلنٹن کے مخالفین نے ان پر غیر محفوظ سرور کے استعمال کرنے کے لیے امریکہ کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔
واشنگٹن میں ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کی وجہ سے مسز کلنٹن کی عوام میں مقبولیت میں اس قدر کمی آئی ہے کہ اب نائب صدر جو بائیڈن سنجیدگی سے پارٹی میں ان کی امیدواری کو چیلنج کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
جبکہ بعض رپبلکن رہنما، جن میں ڈونالڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، انھوں نے ہلیری کلنٹن کے اس عمل کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے ان کا سی آئی اے کے سابق ڈائرکٹر ڈیوڈ پیٹریئس سے موازنہ کیا ہے جن کے خلاف راز افشا کرنے کی وجہ سے مقدمہ چلایا گيا تھا۔
بہر حال ابھی اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ مسز کلنٹن کے گھر کے سرور پر جو ای میل تھے ان کو کلاسیفائڈ کے زمرے میں رکھا گيا تھا یا نہیں۔
اس سے قبل مئی میں ان کی جاری کی گئی 60 ہزار ای میلز میں سے تقریباً نصف ان کے سرکاری امور سے متعلق تھیں جو انھوں نے بطور وزیر خارجہ بھیجی تھیں۔
اس وقت سے وزارت خارجہ کی جانب سے وقفے وقفے سے ان کی ای میلز منظر عام پر لائی جارہی ہیں۔







