یورپ میں پناہ کے متلاشیوں کو نئے راستوں کی تلاش

،تصویر کا ذریعہAFP
کروئیشیا میں پھنسے ہوئے ہزاروں پناہ گزین سلوونیا اور ہنگری کی طرف سے سرحدیں بند کیے جانے کی وجہ سے شمالی یورپ میں آگے بڑھنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
سلوونیا کی پولیس نے گذشتہ رات پناہ گزینوں کےاس گروہ پر مرچوں کا چھڑکاؤ کیا جو کروئیشیا سےسلوونیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
ادھر ہنگری نے کروئیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں پناہ گزینوں کو رجسٹر کیے بغیر دوسرے میں بھیجنے کے عمل سے پناہ گزینوں سے متعلق عالمی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کے ریگولیشنز کے مطابق تارکینِ وطن جس بھی ممبر ملک میں جائے اسے رجسٹریشن کروانی لازمی ہوگی اور وہ اسی ملک میں پناہ کی درخواست بھی کرے گا۔تاہم زمینی صورتحال اس سے مختلف ہے کیونکہ تارکینِ وطن کی اکثریت جرمنی اور آسٹریا جانے کی خواہش رکھتی ہے۔
یورپی یونین جو پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے معاملے پر بٹی ہوئی ہے وہ اگلے ہفتے صورتحال پر غور کے لیےاجلاس منعقد کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جمعے اور سنیچر کی درمیان شب بلقان کے راستے شمالی یورپ میں داخل ہونے کے متمنی ہزاروں پناہ گزینوں نے رات ریلوے سٹیشنوں یا سڑک کے گرد گزاری۔ ترکی پولیس نےگذشتہ رات سینکڑوں افراد کو یونان کی سرحد عبور کرنے سے روکا تو انھیں شمال مغربی ترکی کے شہر ایڈرائن کی موٹروے کے گرد رات گزارنا پڑی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوں جوں یوریی ممالک اپنی سرحدوں پرحفاظتی انتظامات کو بڑھا رہے ہیں، پناہ گزین بڑی سڑکوں کی بجائے مکئی کے کھیتوں کےراستوں پر چل کر منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کی اکثریت جرمنی پہنچنا چاہتی ہے۔
تارکینِ وطن کے معاملے پر مختلف حکومتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یورپ میں شمال مشرق کے راستے سے داخل ہونے والوں کو ایک ملک کی سرحد سے دوسرے ملک کی سرحد کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ اگلے ہفتے یورپی یونین میں تارکینِ وطن کے حوالے سے دو اہم اجلاس منعقد ہوں گے۔ پناہ کی تلاش میں آنے والے ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ہزاروں تارکینِ وطن رواں ہفتے سربیا کے راستے کروئیشیا میں داخل ہوئے تھے کیونکہ ہنگری نے سربیا سے متصل اپنی سرحد کو بند کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے شمال کی جانب ان کا راستہ کٹ گیا تھا۔
جمعے کو کروئیشیا کے وزیرِاعظم زوران میلانووچ نے خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک مزید تارکین وطن کو جگہ دینے کا متحمل نہیں اور ملک میں آنے والے پناہ گزیوں کو ’آگے روانہ کر دیا جائے گا۔‘
ملک کے وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تارکینِ وطن کی تعداد 17 ہزار سے بڑھ چکی ہے اور 3000 ہنگری سے گزر چکے ہیں۔
اب ہنگری تارکینِ وطن کی رجسٹریشن دو مراکز پر کر رہا ہے اور یہ مراکز آسٹریا کی سرحد کے قریب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریا کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کو رکھنے کے معاملے پر ہنگری کے ساتھ کوئی بات چیت یا رابطہ نہیں ہوا۔
مرکزی یورپ میں موجود حکومتیں اپنی سرحدوں کی حفاظت نہ کر سکنے کی وجہ سے ایک دوسرے پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ اور زیادہ تر حکومتیں جرمنی پر الزام لگا رہی ہیں کہ اسی نے سب سے پہلے سفر کرنے کے لیے تارکینِ وطن کی حوصلہ افزائی کی تھی۔تارکینِ وطن کا بحران اہم تاریخیں:
- 13 جولائی کو ہنگری ہمسایہ مک سربیا سہے متصل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا آغاز کیا۔
- 19 اگست کو جرمنی نے کہا کہ وہ متوقع طور پر رواں برس میں پناہ کے حصول کے لیے آٹھ لاکھ تاکینِ وطن کی درخواستں وصول کرے گا۔
- 27 اگست کو آسٹریا میں ایک ٹرک میں سے 71 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
- دو ستمبر کو تین سالہ بچے کی ترکی کے ساحل پر موجود لاش نے تارکینِ وطن کے مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
- 12 سمتبر کو ہنگری میں 4000 سے زائد تارکینِ وطن داخل ہوئے۔
- 13 سمتبر کو جرمنی نے عارضی باڈر کنٹرول متعارف کر وایا۔
- 15 ستمبر کو ہنگری نے سربیا سے اپنے ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے لیے سخت قانون تشکیل دیا۔اس وجہ سے ہماروں تارکینِ وطن نے کروئیشیا کا روٹ اپنایا۔
- 18 سمتبر کو کروئیشیا نے تارکینِ وطن کو ہنگری کی جانب بھجوایا تاہم ہنگری نے سرحد پر نئی باڑ لگانے کا آغاز کر دیا۔







