چین: تیانجن دھماکوں میں ہلاکتیں 50 ، 700زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں ہونے والے دو دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 700 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 12 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں اور 36 تاحال لاپتہ ہیں۔
زخمی ہونے والے سات سو افراد میں سے 76 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے مثاثرہ افراد کو بچانے کے لیے ’تمام کوششیں‘ کرنے پر زور دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں گی اور ان کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
دھماکے بندرگاہ کے قریب ایک گودام میں ہوئے جہاں ’آتش گیر مادے سمیت مہلک اشیا‘ رکھی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک ہزار فائر فائٹر آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے۔
دھماکے کے بعد کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود آگ بجھانے کا کام تاحال جاری ہے۔ سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ پولیس سرچ اور ریسکیو کے ساتھ ساتھ آگ بجھانے میں مصروف ہے اور وہ چاہتی ہے کہ تمام کیمیکل مکمل طور پر جل جائے۔
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آوازیں کئی کلومیٹر تک سنی گئیں اور دھماکے کے بعد شعلے کو خلا سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہf
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصاویر میں آسمان پر شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دھماکے سے قریبی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔
بی بی سی چائنا کے ایڈیٹر ریمنڈ لی کے مطابق یہ ایک صنعتی حادثہ معلوم ہوتا ہے۔
پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات 11:30 بجے ہوا اور اُس کے تقریباً 30 سیکنڈ کےبعد دوسرا دھماکہ ہوا۔
چین کے زلزلے کے مرکز کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکے کی شدت تین ٹن بارودی مواد پھٹنے کے برابر تھی جبکہ دوسرے دھماکے کی شدت 21 ٹن باروی مواد کے برابر تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عینی شاہد اور ٹرک ڈرائیور ژاہو ژینگچن نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ ہم جوہری دھماکے کے بارے میں بات کرتے ہیں، میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ میں ایسی چیز دیکھ سکوں گا، یہ بہت خوفناک تھا لیکن اس کے ساتھ خوبصورت بھی تھا۔‘
ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ خریداری کے لیے گھر سے باہر نکلی تھیں کہ اچانک انھوں نے ’آگ کا بڑا سا گولہ دیکھا۔‘
عینی شاہد نے بتایا کہ ’دھماکے کے وقت زمین لرز اُٹھی، کاریں اور عمارتیں ہل گئیں۔ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور ہر ایک نے دوڑنا شروع کر دیا۔ عمارتوں میں رہنے والے سبھی لوگ سڑک پر اکٹھے ہو گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں دھماکے کے بعد نزدیکی عمارتوں کی بجلی بند ہو گئی ہے۔ چین کے سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کی قریبی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
دھماکے کی عینی شاہد کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا: ’میں سو رہی تھی۔ دھماکے سے میری آنکھ کھلی تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ساری عمارت ہل رہی ہے۔ زلزلہ آ رہا ہو، میں گھبراتے ہوئے بستر سے اُٹھی تو آسمان سرخ تھا اور میرے ہمسائے عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔ اتنی ہی دیر میں دوسرا دھماکہ ہو گیا۔‘
چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔







