یروشلم میں ہم جنس پرستوں کی ریلی پر حملہ، چھ افراد زخمی

ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے پریڈ یروشلم کے سیکولر اور بنیاد پرست یہودیوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے پریڈ یروشلم کے سیکولر اور بنیاد پرست یہودیوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے

اسرائیل کے شہر يروشلم میں گے پرائیڈ پریڈ یا ہم جنس پرستوں کی پریڈ کے شرکا پر ایک شخص نے چاقو سے حملہ کیا ہے۔ جس میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے اور اس شخص نے سنہ 2005 میں بھی ایک پریڈ پر حملہ کر کے تین افراد کو زخمی کیا تھا۔

بنیاد پرست یہودی يشائی شلِسیل کو اس حملے کے لیے 12 سال کی سزا ہوئی تھی اور وہ تین ہفتے پہلے ہی رہا ہوئے تھے۔

ایمبولینس سروس کے مطابق حملے میں زخمی دو لوگوں کی حالت نازک ہے۔

حملہ آور پریڈ پر پیچھے سے آیا اور چلاتے ہوئے چاقو سے حملہ کیا تاہم جلد ہی پولیس نے اسے قابو میں کر لیا۔

20 سالہ یاسمین یسوپوف نے بی بی سی بتایا کہ وہ اور ان کی دوستیں مارچ میں شریک تھیں جب انھوں نے ’بہت سارے لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔‘

ایک عینی شاہد نے بتایا، ’لوگ تمام سمتوں میں بھاگنے لگے۔ حملے اور صدمے کا ماحول تھا۔‘

حملہ آور پریڈ پر پیچھے سے آیا اور چلاتے ہوئے چاقو سے حملہ کیا تاہم جلد ہی پولیس نے اسے قابو میں کر لیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحملہ آور پریڈ پر پیچھے سے آیا اور چلاتے ہوئے چاقو سے حملہ کیا تاہم جلد ہی پولیس نے اسے قابو میں کر لیا

زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے جانے کے بعد بھی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی پریڈ جاری رہی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے حملے کو شدید قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے پریڈ یروشلم کے سیکولر اور بنیاد پرست یہودیوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی پولیس نے جمعرات کو 30 بنیاد پرست مذہبی کارکنوں کو پریڈ کے خلاف مظاہرے کی اجازت دی تھی۔

اسرائیل میں سنہ 2009 میں بھی ہم جنس پرستوں پر حملہ کیا گیا تھا جب تل ابیب میں ایک مسلح شخص نے نوجوان ہم جنس پرستوں کے ایک مرکز پر فائرنگ کر دی تھی جس میں دو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے تھے.

اس حملے میں ملوث شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔