دہلی میں ہم جنس پرستوں کی ’پرائیڈ پریڈ‘

بےبو جان کا کہنا ہے کہ ٹرانسجینڈرز کو بھی وہ تمام حقوق ملنے چاہئییں جو معاشرے اور سرکاری محکموں میں عام شخص کو ملتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبےبو جان کا کہنا ہے کہ ٹرانسجینڈرز کو بھی وہ تمام حقوق ملنے چاہئییں جو معاشرے اور سرکاری محکموں میں عام شخص کو ملتے ہیں

بھارتی دارالحکومت دہلی میں ہم جنس پرستوں کی طرف سے ایک ریلی کا ہتمام کیا گیا جس میں ان سے متعلق بہت سے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔

دہلی میں گذشتہ کئی برسوں سے اس طرح کی مہم چل رہی ہے جسے ’ کویئر پرائڈ پریڈ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بی بی سی نے اس پریڈ میں شامل لوگوں سے بات چیت کی اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔

ریلی کے بیشتر شرکا کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک ہوتا ہے۔

مانو کئی برس سے ’كویئر پرائڈ پریڈ‘ کی مہم میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’معاشرے میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے سبب کئی لوگ خوف کی وجہ سے اپنی شناخت چھپاتے ہیں۔ انھیں خاندان کی جانب سے مار پیٹ یا گھر سے نکال دینے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔‘

بےبو جان خواجہ سرا ہیں۔ وہ اپنے جیسے اور لوگوں کی حمایت کے لیے ہر سال اس پریڈ میں ہر سال حصہ لیتی ہیں۔ انھیں شکایت ہے کہ معاشرہ انھیں عام انسانوں کی طرح کیوں نہیں اپنا سکتا؟

بےبو جان کا کہنا ہے کہ ٹرانسجینڈرز کو بھی وہ تمام حقوق ملنے چاہییں جو معاشرے اور سرکاری محکموں میں عام شخص کو ملتے ہیں۔ انھیں مودی کی حکومت سے کافی امیدیں ہیں۔

جب ہم ایک جانور کا احترام کرتے ہیں اور محبت دیتے ہیں تو ٹرانزسیکشوؤل یا بائی سیكشوؤل کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیوں کیا جاتا ہے:ایرن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجب ہم ایک جانور کا احترام کرتے ہیں اور محبت دیتے ہیں تو ٹرانزسیکشوؤل یا بائی سیكشوؤل کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیوں کیا جاتا ہے:ایرن

سمکشا کالج کی طالبہ ہیں اور اپنی ایک ہم جنس پرست دوست کی حمایت کے لیے اس پریڈ کا حصہ بنی تھیں۔ پریڈ میں شامل لوگوں کی تعداد دیکھ کر وہ حیران تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم جنس پرست اسی سماج کا حصہ ہیں اور ان کا جنم بھی کسی عام بچے کی طرح ہی ہوتا ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ اپنی طرح کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں یا ان سے محبت کرتے ہیں ان سے ان کے عام حقوق نہیں چھینے جا سکتے۔‘

ایرن امریکی سفارت خانے میں کام کرتی ہیں اور وہ اپنے کتے ڈورا کے ساتھ اس پریڈ میں پہنچی تھیں۔

ایرن کہتی ہیں کہ ’جب ہم ایک جانور کا احترام کرتے ہیں اور محبت دیتے ہیں تو ٹرانس سیکشوئل یا بائی سیكشوئلز کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟‘

ابينا اہیر جنسی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعزیراتِ ہند کے سیکشن 377 کو پھر سے قائم کرنے والے دسمبر سنہ 2013 کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور ہم جنس پرستی سے متعلق تشدد کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

ہم جنس پرست اسی سماج کا حصہ ہیں اور ان کا جنم بھی کسی عام بچے کی طرح ہی ہوتا ہے:سمکشہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہم جنس پرست اسی سماج کا حصہ ہیں اور ان کا جنم بھی کسی عام بچے کی طرح ہی ہوتا ہے:سمکشہ

اپشتا فیشن انڈسٹری میں کام کرتی ہیں ان کے ساتھ کام کرنے والے کئی ساتھی یا تو گے ہیں یا لیزبئين۔ ان کے مطابق وہ تمام بہت اچھے انسان ہیں اور انھیں سمجھ میں نہیں آتا کہ معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں برتا جاتا ہے۔

45 سالہ سونیا امریکہ میں رہتی ہیں اور 23 برس کی عمر میں انھیں احساس ہوا کی وہ لیزبیئن ہیں۔ وہ امریکہ میں بھی اس طرح کی کئی پریڈز میں شامل ہو چکی ہیں۔

سونیا کا خیال ہے کہ ان کی طرح کے لوگ بھی انسانیت، تعلیم، حوصلہ اور محبت حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’معاشرے کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں بھی فخر سے جینے کا حق حاصل ہے۔‘

شیف ریتو ڈالمیا بھی اس پریڈ میں اپنے دوستوں کے ساتھ شامل ہوئیں۔ ریتو مانتی ہیں کہ ہم جنس پرستوں کو بھی دوسرے ہندوستانیوں کی طرح فخر اور خوف سے آزاد اسی طرح کی زندگی گزارنے کا حق ہے۔