’تم ایسی کیوں ہو، جاؤ اپنی جنس بدلواؤ‘

ڈونیا کو پولیس والے ذلیل کرتے اور کہتے کہ وہ جنس تبدیل کریں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنڈونیا کو پولیس والے ذلیل کرتے اور کہتے کہ وہ جنس تبدیل کریں
    • مصنف, علی ھمدانی
    • عہدہ, بی بی سی فارسی سروس لندن

ایران چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں ہم جنس پرستوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

علما یہ خیال ضرور قبول کرتے ہیں کہ ایک شخص غلط جنس کے ساتھ پیدا ہو کر اس میں پھنس سکتا ہے۔

ہم جنس پرستوں کو اکثر جنس کی تبدیلی کی سرجری کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، جس سے بچنے کے لیے ان میں سے کئی لوگ ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔

ایران میں رہتے ہوئے ڈونیا اپنے بالوں کو چھوٹے رکھتی تھیں یا سر منڈوا دیتی تھیں۔ وہ سر پر سکارف لینے کے بجائے ٹوپی پہنتی تھیں اور حیض کو رکوانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس بھی گئیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں اتنی چھوٹی تھی کہ مجھے خدا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں اپنے حیض رکوا دوں گی تو اور بھی مردانہ بن سکتی ہوں۔‘

ڈونیا اور ان کے بیٹے نے کینیڈا میں پناہ حاصل کی

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنڈونیا اور ان کے بیٹے نے کینیڈا میں پناہ حاصل کی

اگر پولیس والے کبھی ڈونیا سے ان کی شناختی کارڈ مانگتے اور انھیں پتہ چلتا کہ وہ خاتون ہیں تو وہ انھیں ذلیل کرتے اور کہتے: ’تم ایسی کیوں ہو، جاؤ، اپنی جنس تبدیل کرواؤ۔‘

یہ ڈونیا کی خواہش بن گئی۔ انھوں نے کہا: ’مجھ پر اتنا دباؤ تھا کہ میں جلد سے جلد اپنی جنس بدلنا چاہتی تھی۔‘

ڈونیا سات سال تک ہارمونل علاج کرواتی رہیں۔ ان کی آواز بھاری ہو گئی اور ان کے چہرے پر بال اگنا شروع ہو گئے۔

انھوں نے کہا: ’میرے پاس انٹرنیٹ تک رسائی بھی نہیں تھی، یہاں پر کئی ویب سائٹیں بلاک کی گئی ہیں۔ پھر میں نے سویڈن اور ناروے میں رہنے والے کچھ دوستوں سے مدد لی اور تحقیق شروع کر دی۔ میں اپنے آپ کو سمجھنے لگی، میں نے تسلیم کیا کہ میں لیزبیئن ہوں اور میں خوش تھی۔‘

لیکن ایران میں خود کو ہم جنس پرست کہلوا کر رہنا ناممکن ہے۔ ڈونیا، جو اب 33 برس کی ہو گئی ہیں، اپنے بیٹے کے ساتھ کینیڈا فرار ہو گئیں جو ان کی ایک مختصر شادی کے بعد پیدا ہوا تھا۔ دونوں کو کینیڈا میں پناہ مل گئی۔

ہم جنس پرست مردوں یا خواتین کو اپنی جنس تبدیل کروانے پر مجبور کرنا سرکار کی پالیسی نہیں ہے، لیکن ان لوگوں پر شدید دباؤ ہوتا ہے۔

80 کی دہائی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی نے لوگوں کو اپنی جنس بدلوانے کی اجازت دینے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ بظاہر وہ ایک شخص سے ملنے کے بعد متاثر ہوئے تھے جس نے انھیں بتایا تھا کہ وہ دراصل عورت ہیں جو مرد کے جسم میں پھنسے ہوئے ہیں۔

شبنم (جن کا نام بدل دیا گیا ہے) ایران کے ایک سرکاری کلینک میں ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کچھ ہم جنس پرست لوگوں کو جنس بدلنے کی سرجری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

شبنم کہتی ہیں کہ چونکہ ڈاکٹروں کو ’شناخت اور جنسیت‘ کا فرق نہیں معلوم، اس لیے وہ مریضوں کو جنس بدلوانے کا کہتے ہیں۔

حکومت کی پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مخنث ایرانیوں کو اپنی زندگی کو پوری طرح جینے میں مدد دی جا رہی ہے اور انھیں دوسرے ممالک سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔

لیکن خدشہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی جنس کی تبدیلی کی سرجری کی طرف مائل کیا جا رہا ہے جو مخنث نہیں، بلکہ ہم جنس پرست ہیں۔

شبنم کہتی ہیں: ’میرے خیال میں یہاں انسانی حقوق کے خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مجھے اس بات کا زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ جو تنظیمیں جن کو انسانی حقوق کی حمایت کرنی چاہیے، وہ بھی حکومت کی حمایت کر رہی ہیں۔‘

سہیل کے والد نے انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی اور انھیں کہا کہ انھیں اپنے جنس بدلنے کی سرجری کروانی پڑے گی

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنسہیل کے والد نے انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی اور انھیں کہا کہ انھیں اپنے جنس بدلنے کی سرجری کروانی پڑے گی

ماہرین نفسیات نے 21 سالہ سہیل کو جنس تبدیل کرنے کی سرجری کروانے کی تجویز دی۔ پھر ان کے اہل خانہ نے بھی انھیں سرجری کروانے پر مجبور کیا۔

انھوں نے بتایا: ’میرے والد مجھے دو رشتےداروں کے ساتھ تہران میں ملنے آئے۔ میرے بارے میں انھوں نے ایک میٹنگ کی، پھر انھوں نے مجھے کہا کہ یا تو تم جنس بدلو گے یا ہم تمھیں قتل کر دیں گے اور اس خاندان میں نہیں رہنے دیں گے۔‘

سہیل کے اہل خانہ نے انھیں ساحلی شہر بندر عباس میں اپنے گھر میں رکھا اور ان کی نگرانی کی۔ آپریشن ہونے سے ایک دن قبل سہیل کچھ دوستوں کی مدد سے اپنے گھر سے فرار ہو سکے۔ انھوں نے سہیل کو ایک جہاز کا ٹکٹ خرید کر دیا اور وہ ترکی آ گئے۔

انھوں نے کہا: ’اگر میں پولیس کو بتاتا کہ میں ہم جنس پرست ہوں تو میری زندگی کو اس سے بھی زیادہ خطرہ ہوتا جتنا میرے اہل خانہ کو بتانے سے ہوا۔‘

ایران میں جنس بدلنے کی کتنی سرجریز ہوتی ہیں اس کی کوئی قابل اعتماد معلومات نہیں ہیں۔

حکومت کے ایک حامی خبر رساں ادارے ’خبر آن لائن‘ کے مطابق سنہ 2006 میں 170 سرجریز کی گئی تھیں جو 2010 میں 370 ہو گئیں۔ لیکن ایک ایرانی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف وہ ہر سال کم از کم 200 آپریشن کرتے ہیں۔

ڈونیا اور سہیل کی طرح کے کئی لوگ ایران سے فرار ہو گئے ہیں۔

اکثر وہ پہلے ترکی جاتے ہیں، جہاں ایرانیوں کو ویزا لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہاں سے پھر وہ اکثر یورپ یا شمالی امریکہ کے کسی ملک میں سیاسی پناہ لینے کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ انھیں سالوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور تب تک انھیں سماجی طور پر قدامت پسند صوبائی شہروں میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں تعصب اور امتیازی سلوک عام ہوتا ہے۔