مصر: ہم جنس پرستوں کی شادی کی ویڈیو پر عمر قید

مصر میں حالیہ مہینوں میں ہم جنس پرستوں کے ٹھکانوں پر پولیس کے چھاپوں میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنمصر میں حالیہ مہینوں میں ہم جنس پرستوں کے ٹھکانوں پر پولیس کے چھاپوں میں اضافہ ہوا ہے

مصر میں ایک عدالت نے مبینہ طور پر ہم جنس پرستوں کی شادی کی تقریب میں نظر آنے والے آٹھ افراد کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ان افراد نے اپنے اوپر عائد عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی اور بدکاری کو ہوا دینے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

ستمبر میں یوٹیوب پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دریائے نیل میں ایک کشتی پر دو مرد ایک دوسرے کو انگوٹھی دیتے ہوئے نظر آئے۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سبیسشن اوشر کے مطابق اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد اسلام پسندوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ معزول صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے ملک میں اخلاقی معیار میں کمی آ رہی ہے۔

ویڈیو میں ایک جوڑے کو شادی کی انگوٹھی ایک دوسرے کو دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنویڈیو میں ایک جوڑے کو شادی کی انگوٹھی ایک دوسرے کو دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا

نامہ نگار کے مطابق گذشتہ سال موجودہ صدر عبدالفتح السیسی کی قیادت میں اسلام پسند صدر مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو سکتا ہے کہ حکام عوام کو بتانا چاہتے ہوں کہ وہ بھی سماجی معاملات پر اسی طرح سے قدامت پسند ہیں۔

اگرچہ میں مصر میں ہم جنس پرستی قانونی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن معاشرے میں اس کی اب بھی ممانعت ہے اور حالیہ مہینوں میں ہم جنس پرستوں کے ٹھکانوں پر پولیس کے چھاپوں میں اضافہ ہوا ہے۔