ہم جنسیت کو بیماری قرار دینے پر ہنگامہ

،تصویر کا ذریعہAFP
ٹیکسس رپبلکن پارٹی نے امریکہ میں ہم جنسیت کو بیماری قرار دینے اور ہم جنس پرستوں کو حاصل تمام قانونی اور سماجی تحفظات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹیکسس رپبلکن پارٹی کے کنونشن میں مندوبین نے گذشتہ سنیچر کو ایک ایسی دستاویز کی منظوری دی ہے جس نے ’ٹی پارٹی‘ نامی گروہ کے رجعت پسندانہ تصورات کا بھی احاطہ کر لیا ہے۔
اس دستاویز میں امیگریشن اور بارڈر سکیورٹی پالیسی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ان پر تو بحث مباحثہ ہو گا ہی لیکن قرارداد کے دو پیراگراف ایسے ہیں جو کنونشن ہال کے اندر ہی انتہائی متازع اور گرما گرم بحث کا سبب بن گئے۔
ان پیراگرافوں میں کہا گیا ہے:
’ہم جنسیت کو نہ تو پبلک پالیسی میں زندگی گزارنے کے متبادل طریقے کے طور پیش کیا جانا چاہیے اور نہ ہی ایسے خاندانوں کے لیے ’’ہم جنس جوڑوں‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جانی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں نہ تو اس کے لیے خصوصی قانونی حقوق وضع کیے جانے چاہییں اور نہ ہی ہم جنسیت پسندانہ طرزِ عمل کو خصوصی حیثیت یا درجہ دیا جانا چاہیے اور اس میں کسی ریاستی تعلق کو بھی اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔
’مزید یہ کہ ہم عقیدے، روایتی قدروں اور تصورات کی بنا پر ہم جنسیت کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف کسی بھی طرح کی دیوانی یا فوجداری کارروائی کے خلاف ہیں۔
’ہم اس مسئلے کے جائز ہونے اور اس ضمن میں کاؤنسلنگ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ایسے ہم جنس پرستوں کی ’ریپیئرٹیو (معالجانہ) تھیراپی‘ کی حمایت کرتے ہیں جو اس بیماری سے نجات حاصل کر کے زندگی گزارنے کے لیے اپنا طریقہ بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسے کسی علاج پر کسی بھی قانون یا کسی بھی ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے نہ تو کوئی پابندی لگائی جانی چاہیے اور نہ ہی اسے محدود کیا جانا چاہیے۔‘
ہم جنس پرستوں کے حقوق کی بات کرنے والے گروہوں اور تنظیموں اور لبرل مبصروں نے علاج کی اصطلاح استعمال کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ یہاں تک کہ امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن نے بھی اسے ’سماج سے لاعلمی اور تعصب‘ قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ ہم جنسوں میں جنسی رغبت کو ذہنی بیماری قرار دینا ’سماج سے لاعلمی اور تعصب‘ کا نتیجہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کے ادارتی صفحے کے مدیر اینڈریو روزنتھل نے ان گروہوں حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ہم جنسیت نہ تو کوئی الگ طرزِ زندگی ہے اور نہ ہی کوئی بیماری جس سے نجات کے لیے کسی تھیراپی کی ضرورت ہوتی ہو۔ کیونکہ مردوں میں باہمی رغبت کا رحجان، عورتوں میں باہمی رغبت کا رحجان یا مخلوط نسل ہونا حیاتیاتی عمل کا حصہ ہے نہ کہ اختیاری۔‘
ٹیکسس آبزور کا کہنا ہے کہ ’معالجانہ تھیراپی‘ جیسی اصطلاحوں کی توثیق کرنا اگر ظالمانہ اور پُر تمسخر نہیں تو انتہائی نقصان دہ ضرور ہے کیونکہ اس کے ذریعے دوسروں کو اپنے جیسا بنانے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔‘
قرارداد کے حامیوں کی نمائندہ کیتھی ایڈم کا کہنا ہے کہ ایک تو ٹیکسس کی اکثریت کی سوچ یہی ہے اور پھر انھوں نے قرار داد میں ایک ایسے آدمی کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس نے اس تھیراپی کو استعمال کیا ہے اور اُنھیں اس سے فائدہ ہوا ہے۔ پھر یہ نہیں کہا گیا کہ یہ تھیراپی لازمی ہو، یہ تو رضاکارانہ ہو گی یعنی صرف ان کے لیے جو اس کا انتخاب کریں گے۔







