یورپ: ہم جنس پرست افراد اور امتیازی سلوک

جمعے کو ہم جنس پرستی سے نفرت کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنجمعے کو ہم جنس پرستی سے نفرت کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے

یورپین یونین میں گزشتہ پانچ سالوں پر محیط ایک سروے کے مطابق ایک تہائی سے زیادہ ہم جنس پرست افراد پر کسی نہ کسی صورت میں حملے ہوئے یا انہیں پرتشدد دھمکیاں دی گئیں۔

اس سروے سے پتا چلایا گیا ہے کہ اس میں حصہ لینے والے افراد میں غریب اور نوجوان افراد کو زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔

یورپین یونین کی بنیادی حقوق کی ایجنسی نے ترانوے ہزار افراد سے یورپین یونین اور کروشیا میں اس سروے کے سلسلے میں سوالات کیے گئے۔

اس سروے کو اب تک کا سب سے جامع سروے قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعے کو ہم جنس پرستی سے نفرت کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی اینا ہولیگن کا نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ سے کہنا ہے کہ یورپین یونین کے اس سروے سے بعض پریشان کن رجحانات سامنے آئے ہیں جہاں تین سو سیاستدان اور ماہرین ہم جنس پرست افراد کے خلاف نفرت کو ختم کرنے کے لیے قوانین بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

انٹریٹ پر کیے گئے اس آن لائن سروے میں ہم جنس پرست گے، لیزبین، بائی سیکشوؤل اور ٹرانس جینڈر افراد سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں کسی قسم کے امتیازی سلوک، تشدد، زبانی نفرت یا عمومی نفرت کا سامنا کرنا پڑا ان کی جنسی رجحانات کی وجہ سے یا ان کی جنسی تخصیص کی وجہ سے۔

چھبیس فیصد جواب دینے والے افراد نے کہا کہ ان پر حملے کیے گئے اور انہیں تشدد کیا گیا گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اور ٹرانس جینڈر افراد میں یہ تناسب پینتیس فیصد تھا۔

زیادہ تر بیان کیے گیے حملے سب سے کے سامنے کیے گیے اور ان کے کرنے والے ایک سے زیادہ افراد تھے اور ان میں اکثریت مردوں کی تھی۔

آدھے سے زیادہ افراد جنہوں نے اس سروے میں حصہ لیا نے بتایا کہ انہوں نے ان حملوں کے بارے میں حکام کو نہیں بتایا کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ اس حوالے سے حکام کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔

ایک تہائی جواب دینے والوں نے بتایا کہ انہوں نے سکول میں اپنے جنسی رجحانات اور شناخت کو چھپا کر رکھا۔