ہم جنس پرست مخالف قوانین، یوگینڈا کا قرض ملتوی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
عالمی بینک نے افریقی ملک یوگینڈا کے لیے ملک میں ہم جنس پرست افراد کے خلاف منظور کیے گئے قانون کے بعد 90 کروڑ کا قرضہ ملتوی کر دیا ہے۔
عالمی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایسے منصوبے، جن کو اس قرض سے مدد ملنی تھی، اس کے ملتوی ہونے کے نتیجے میں متاثر نہ ہوں۔
اس قرض کا مقصد یوگینڈا کے صحت کے شعبے میں بہتری لانا تھا۔
یوگینڈا میں پیر کو نافذ کیے جانے والا قانون ہم جنس پرست افراد سے متعلق پہلے سے موجود قوانین کو مزید سخت کر دے گا۔
اس قانون کے نتیجے میں ’سنگین ہم جنس پرستی‘ کے عمل کے نتیجے میں قید کی سزا ہو گی اور اس کے نتیجے میں ’ہم جنس پرستی کی ترویج‘ کو مجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون پر مغربی ممالک نے شدید تنقید کی ہے اور یوگینڈا کو امداد دینے والے ڈنمارک اور ناروے جیسے ممالک نے کہا ہے کہ وہ اب حکومت سے امداد لے کر امدادی تنظیموں کو دینا شروع کر دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس قانون کو ’ہولناک‘ قرار دیا ہے اور ان کے ساتھ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس قانون کو نازی جرمنی کے یہودیوں کے خلاف قوانین اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستی والے قوانین سے تشبیہ دی ہے۔
عالمی بینک کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’ہم نے قرض ملتوی کر دیا ہے اور ہم اس پر نظر ثانی کریں گے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ ایسے منصوبے جن کو اس قرض سے مدد ملنی تھی، اس کے ملتوی ہونے کے نتیجے میں متاثر نہ ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ قرض جمعرات کو منظور کیا جانا تھا اور یہ ملک کے ذہنی صحت اور نومولود بچوں اور خاندان کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی میں بہتری لانے کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔
عالمی بینک کی جانب سے قرض ملتوی کرنے کا اقدام یوگینڈا کے خلاف اس قانون کو نافذ کرنے کے بعد سب سے بڑی مالیاتی قدغن ہے۔
عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم کے لیے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک اداریے میں یوگینڈا کو خبردار کیا کہ جنسی حقوق پر قدغن والے قوانین ’ملک کی مسابقت کی قوت کو متاثر کریں گے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے حوصلہ شکنی کو فروغ دیں گے۔‘

انہوں نے لکھا کہ عالمی بینک اس بات پر غور کرے گا کہ ایسا غیر مساویانہ رویہ کیسے ’ہمارے منصوبوں اور ہم جنس پرست عملے کو متاثر کرے گا۔ ہر قسم کے غیر مساویانہ رویے کا خاتمہ فوری ضرورت ہے۔‘
یوگینڈا کے صدر یوری موسوینی نے عالمی تنقید کے باوجود اس ہفتے کے آغاز میں اس ہم جنس پرست افراد کے خلاف قانون پر دستخط کیے تھے۔
یوگینڈا کے حکام نے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر موسوینی ’یوگینڈا کی آزادی کا مغربی دباؤ اور اشتعال کے سامنے دفاع کر رہے ہیں۔‘
یوگینڈا بہت قدامت پسند معاشرہ ہے جہاں بہت سے افراد ہم جنس پرستی کو برا سمجھتے ہیں۔







