صدر اوباما جنسی تشدد کے خلاف مہم میں شریک

barak obama

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کے خلاف نہ بولنا خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے

ملک کی مشہور شخصیات اور موسیقار امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے امریکی یونیورسٹیوں میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنے کے لیے شروع کی جانے والی مہم میں حصہ لیں گے۔

’یہ ہم پر ہے‘ کے نام سے شروع کی جانے والی اس مہم کا مقصد نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ جب وہ اپنے سامنے ایسا کوئی واقعہ ہوتے دیکھیں جو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے، تو اس میں مداخلت کریں۔

ایک اندازے کے مطابق یونیورسٹی کی تعلیم دوران ہر پانچ میں سے ایک عورت جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

مہم چلانے والے گروپوں میں ’یو ایس کالجیٹ ایتھلیٹک ایسوسی ایشن‘ اور میڈیا کی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں جمعے کے روز مہم کی ابتدائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ کیمپسز کے اندر کسی کو جنسی طور پر ہراساں کرنا دراصل انسانیت کی توہین ہے، اور ہم اب بھی جنسی زیادتی کی اتنی شدت سے مذمت نہیں کرتے جتنی کرنی چاہیے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ہم اس پر معذرت کر لیتے ہیں یا پھر کوئی اور راستہ اختیار کر لیتے ہیں جو بالکل ٹھیک نہیں ہے۔

صدر اوباما نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم سب کو چاہیے کہ اس برداشت اور خاموشی کو توڑیں اور جو غلط ہے اسے ماننے سے انکار کریں اور اس کی مذمت کریں۔

’ہم خاص طور پر اپنے نوجوانوں سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ خواتین کا احترام کریں جس کی وہ مستحق ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔‘

وائٹ ہاؤس میں اس پروگرام سے پہلے آن لائن چلائی جانے والی مہم میں اداکار جان ہیم، اداکارہ کیری واشنگٹن، موسیقار کیوسٹ لو، باسکٹ بال اسٹار کیون لو اور دیگر مشہور شخصیات نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی سے جنسی زیادتی ہوتے دیکھیں تو اس میں ضرور مداخلت کریں۔