جنسی تعصب کیا بلا ہے؟

جنسی تعصب، صنفی امتیاز، جنسی ہراسانی، جنسی تشدد، یہ وہ چند الفاظ تھے جو قارئین کی جانب سے سیکسزم کی تعریف کے حوالے سے سامنے آئے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنجنسی تعصب، صنفی امتیاز، جنسی ہراسانی، جنسی تشدد، یہ وہ چند الفاظ تھے جو قارئین کی جانب سے سیکسزم کی تعریف کے حوالے سے سامنے آئے
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں سیکسزم یا جنسی تعصب پر بات کرنا تو درکنار، بہت سے لوگ ایسے ہیں جنھیں اس کے معنی اور مفہوم ہی کی سمجھ نہیں ہے، بلکہ اس کے بارے میں سوال کرنے پر پہلا سوال یہ تھا: ’یہ جنسی تعصب کیا بلا ہے؟‘

بی بی سی کے سو خواتین کے سیزن کے سلسلے میں بی بی سی اردو نے ورلڈ سروس کی دوسری زبانوں کے ساتھ کثیر لسانی مباحثے میں حصہ لیا اور اس کے نتیجے میں ہمارے قارئین کے جوابات اور تبصرے موصول ہوئے جنھیں دوسری زبانوں میں اور انگریزی میں ترجمہ کر کے <link type="page"><caption> ViaBBC</caption><url href="https://twitter.com/viabbc" platform="highweb"/></link>@ ٹویٹ کیا گیا۔

ملک عمید نے لاہور سے ٹویٹ کی کہ ’پاکستانی معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جنسی تعصب کو کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتے اور اسے مذہب کی چھتری فراہم کرتے ہیں۔‘

فیصل کا خیال تھا کہ ’جنسی تعصب سے پہلے تعصب پر مبنی معاشرتی درجہ بندی ختم ہونی چاہیے، جو ایک صنف نہیں بلکہ کمزور مرد عورت دونوں کی عزت غیر محفوظ رکھتی ہے۔‘

افشاں مصعب نے ٹویٹ کی کہ ’جنسی تعصب اسی لمحے شروع ہوتا ہے جس لمحے آپ کی گاڑی پورچ سے باہر نکلتی ہے اور یہ وہ سوسائٹی ہے جہاں ساتھ جوان بیٹی بیٹھی ہو مگر نظریں سامنے بیٹھی اس سے چھوٹی عمرکی لڑکی پر ہوتی ہیں۔‘

راشد احمد کا خیال تھا کہ ’عورت کومردوں نے کبھی جائز مقام دیا ہی نہیں ورنہ ہمارے معاشرے میں عورت پاؤں کی جوتی ہے جیسے محاورے وجود میں نہ آتے۔ ہمارے معاشرے کی 80 فی صد گالیوں میں عورتوں کا ذکر ہے، اگرہم عورت کو قابل احترام گردانتے تو شاید ایسا نہ کرتے۔‘

شعیب حسن نے پاکستانی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس سے بڑھ کر جنسی تعصب کیا ہوگا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئی ہیں؟‘

بی بی سی کے سو خواتین کے سلسلے میں سیکسزم کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں بی بی سی ورلڈ سروس میں شامل تمام زبانوں نے شرکت کی

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے سو خواتین کے سلسلے میں سیکسزم کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں بی بی سی ورلڈ سروس میں شامل تمام زبانوں نے شرکت کی

اس کے پیچھے کارفرما عوامل پر بات کرتے ہوئے مختلف افراد کی مختلف رائے تھی مگر اکثریت کا زور تعلیم اور تربیت کی کمی پر تھا اور انھوں نے اس میں صنفی توازن کی ضرورت پر زور دیا۔

راشد احمد ہی کا خیال تھا کہ ’ہم نے پہلے عورت کو صنف نازک قرار دے کر اس کی حوصلہ شکنی کی اور پھر اس کی حفاظت کے نام پر اسے گھر بٹھا دیا۔‘

عامر خان کا نے کہا: ’بدقسمتی سے جنس کی تعلیم کو پاکستان جیسے معاشرے میں فحاشی کا نام دے کر رد کیا جاتا ہے جو آگے چل کر جنسی تعصب کی بڑی وجہ بنتی ہے۔‘

جبکہ شہزاد نے اسے بنیادی اخلاقیات کی تعلیم کے فقدان کی وجہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے ہاں اخلاق اور شرافت کو پروان ہی نہیں چڑھنے دیا گیا، ہماری سوسائٹی میں عزت کرنے کا درس نہیں دیا گیا۔‘

دوسری جانب زاہد سلیم کا خیال تھا کہ اس کی وجہ عورتیں خود ہوتی ہیں: ’خواتین کو (اپنے غیر مناسب لباس) کے ذریعے دی جانے والی ’دعوتِ گناہ‘ کو کم کرنا چاہیے جو کہ جنسی ہراسانی کا باعث بنتا ہے۔‘

عبدالصمد نے لکھا کہ ’ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جہاں ہم نے عورت کو دبانا ہوتا ہے وہاں ہم مذہب کو لے آتے ہیں اور مذہب کی دوسری تعلیمات کو بھول جاتے ہیں۔‘

خواتین کے کردار اور ان کے ساتھ امتیاز کے موضوع پر مختلف زبانوں میں مختلف رائے تھی مگر بعض باتوں میں سب کے ہاں ایک جیسے مسائل تھے جن میں عورت کو کم تر، کمزور اور نااہل سمجھنا شامل ہے

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشنخواتین کے کردار اور ان کے ساتھ امتیاز کے موضوع پر مختلف زبانوں میں مختلف رائے تھی مگر بعض باتوں میں سب کے ہاں ایک جیسے مسائل تھے جن میں عورت کو کم تر، کمزور اور نااہل سمجھنا شامل ہے

جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اس کا حل کیا ہے تو بہت سے افراد نے تعلیم کے ذریعے حل کی تجویز دی، جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ مذہب کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

سیف بلوچ کا خیال تھا کہ ’اسی لیے اسلام نے سِنِ بلوغت کو پہنچتے ہی شادی کا حکم دیا ہے اور ناجائز قدم اٹھانے پر شادی شدہ افراد کے لیے سنگساری اور سخت سزا کا حکم دیا ہے۔‘

اور عمر فاروق بورانہ کا کہنا تھا کہ ’ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی جاۓ نگاہ نیچے رکھی جائے، روزہ رکھا جائے، نکاح کر لیا جائے۔‘

شعیب اظہر نے صنفی تفریق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’جنسی تعصب کا سدباب تب ہی ہو سکتا ہے جب آپ مرد اور عورت کی تفریق سے نکلیں اور ہر کسی سے بطور انسان برتاؤ کریں۔‘

عامر خان نے لکھا کہ ’تعلیمی نصاب میں ایسے مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے جس میں مرد اور عورت کی برابری پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہو۔‘

رضوان علی رومی نے لکھا کہ ’اپنی بیٹی کو باہر جانے سے منع مت کرو بلکہ اپنے بیٹے سے کہو کہ وہ حد میں رہے۔‘

اس سارے مباحثے کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ تھا کہ اس میں ٹویٹس کرنے والے 90 فیصد مرد تھے جیسا کہ آپ اوپر کے مضمون میں دیکھ سکتے ہیں کہ صرف ایک خاتون کی رائے شامل ہے جو ان چند خواتین میں سے ایک تھیں جو اس بحث میں شریک ہوئیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے صرف لفظ سیکس پڑھ اور باقی کے حرف سمجھے بغیر ہی اس پر تبصرے کیے جنھیں یہاں جگہ نہیں دی جا سکی مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس قدر گھمبیر ہے۔