امریکہ میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت: سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کم از کم ایک دہائی سے جاری قانونی جنگ کا اختتام ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کم از کم ایک دہائی سے جاری قانونی جنگ کا اختتام ہو گیا ہے

امریکہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ امریکہ کی کسی بھی ریاست میں ہم جنس پرستوں کا شادی کرنا ایک قانونی حق ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد 14 امریکی ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کی شادی پر عائد پابندی ختم ہو گئی ہے۔

جسٹس اینتھنی کینیڈی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے قانونی طور پر برابری کی استدعا کی ہے کہ اور آئین ان کو اس کی اجازت دیتا ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کم از کم ایک دہائی سے جاری قانونی جنگ کا اختتام ہو گیا ہے۔

سپریم کور کے اس فیصلے کے بعد جمعے کو جارجیا، مشیگن، اوہائیو اور ٹیکسس میں ہم جنس پرستشادی کرانے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچے۔ یاد رہے کہ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاس ہم جنس پرستوں کی شادی پر پابندی عائد تھی۔

تاہم میسیسپی اور لوزیانا جیسے ریاستوں نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستوں کو شادی کے لیے اس وقت تک انتظار کرنا ہو گا جب تک انتظامی ایشوز حل نہیں ہو جاتے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ’امریکہ کی جیت‘ قرار دیا ہے۔

تاہم عیسائی قدامت پسندوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

آرکنسا کے سابق گورنر اور صدارتی امیدوار مائیک ہکابی نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

ہم جنسی پرستوں کی شادی کے خلاف مہم جو گروپ کی وکیل کیلی فیڈورک نے اس فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ عدالت نے ہزاروں امریکیوں کی آواز کو نظر انداز کیا ہے۔