امریکی سپریم کورٹ میں ہم جنس شادیوں کے خلاف اپیل مسترد

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی سپریم کورٹ نے امریکہ کی 5 ریاستوں انڈیانا، یوٹا، اوکلاہاما، ورجینیا اور وسکونسن میں ہم جنس شادیوں کے خلاف اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ایسی ریاستوں کی تعداد 30 ہوجائے گی جہاں ہم جنس پرستوں شادیاں قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔
ان اپیلوں کو مسترد کرنے سے سپریم کورٹ نے ان ریاستوں میں ذیلی عدلیہ کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے جن میں ان پابندیوں کو ختم کیا گیا تھا۔
امریکہ میں ہم جنس پرست شادیوں کی حمایت کے رجحان میں اضافہ 2013 میں سپریم کورٹ کے دو تاریخی فیصلوں کے بعد ہوا۔
پیر کو صادر کیے جانے والے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے نو جج ملک بھر میں ہم جنس پرست شادیوں کے سوال کو حل کرنے سے ایک قدم پہلے رکے ہیں۔
یاد رہے کہ اس اپیل کے مسترد کیے جانے کے بعد ان پانچ ریاستوں میں ہم جنس پرست جوڑے شادیاں کر سکتے ہیں جو رکی ہوئی تھیں۔
دوسری چھ ریاستوں کولوراڈو، کینزس، شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا، مغربی ورجینیا اور وائیومنگ میں ہم جنس پرست جوڑے جلد ہی شادی کر سکیں گے۔
گذشتہ سال سپریم کورٹ نے ایک وفاقی قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا جو قانونی لحاظ سے شادی شدہ ہم جنس پرست جوڑوں کو حقوق کی فراہمی کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد امریکہ بھر میں ہم جنس پرست شادیوں کے قوانین کو ذیلی عدالتوں نے کالعدم قرار دیا اور کئی کو توقع تھی کہ سپریم کورٹ اس فیصلے کے دوران کسی موقعے پر اس مسئلے کو ملک گیر سطح پر حل کرنے کے لیے توجہ دے گی نہ کہ ایک ایک ریاست کے حساب سے۔







