’ہم جنس پرستی پر فیصلہ کرنے والا میں کون‘

رومن کیتھولک عیسائی فرقے کے سربراہ پوپ فرانس نے کہا ہے کہ ہم جنس پرست افراد کو الگ تھلگ کرنے کی بجائے انہیں معاشرے کا حصہ بنانا چاہیے۔
برازیل سے واپسی پر ویٹیکن سے تعلق رکھنے والے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے پوپ فرانس نے رومن کیتھولک چرچ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پرستی گناہ ہے لیکن اس جانب میلان ہونا گناہ نہیں۔
پوپ کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے اور خدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اس کے بارے فیصلہ صادر کرنے والا۔‘
پوپ فرانسس نے یہ بھی کہا کہ وہ کلیسا میں خواتین کا بہتر کردار چاہتے ہیں لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ پادری نہیں بن سکتیں۔
پوپ پیر کو برازیل کے ایک ہفتہ طویل دورے کے بعد واپس روم پہنچے ہیں۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ریو ڈی جنیرو کے مشہور ساحل کوپا کبانا پر عالمی کیتھولک ڈے فیسٹیول میں بھی شرکت کی۔
اس میلے میں پوپ کا خطاب سننے کے لیے اندازاً تیس لاکھ سے زیادہ افراد آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم جنس پرستی کے بارے میں پوپ فرانس کے خیالات اپنے پیش رو سے مختلف ہیں جو ہم جنس پرستی کے بارے میں سخت رائے رکھتے تھے۔
سابق پوپ بینیڈکٹ نے 2005 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ہم جنس پرستی کی جانب میلان رکھنے والے مردوں کو پادری نہیں بنایا جانا چاہیے۔
تاہم اب پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ ہم جنس پرست پادریوں اور ان کے گناہوں کو معاف کر دینا چاہیے۔
صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ کیتھولک کلیسا اس بارے میں حالات واضح کرتا ہے۔ ’وہ کہتا ہے کہ انہیں اس وجہ سے الگ تھلگ نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں معاشرے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔‘
تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ہم جنس پرست افراد کی جانب سے لابیئنگ کی بھی مذمت کی۔ ’مسئلہ اس کا میلان رکھنے میں نہیں۔ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ مسئلہ یہ رجحان رکھنے والوں کی لابیئنگ ہے۔‘
کلیسا میں خواتین کے کردار پر پوپ نے کہا کہ ’ہم کلیسا میں ان کے کردار کو خیراتی ادارے کی سربراہ بنانے تک محدود نہیں کر سکتے۔ اس میں اضافہ ہونا چاہیے۔ لیکن جہاں تک بات انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کروانے کی اجازت دینے کی ہے تو کلیسا کہ چکا ہے کہ نہیں یہ دروازہ بند ہو چکا ہے۔‘







