’ہم جنسیت مخالف جنت میں نہیں جاؤں گا‘

جنوبی افریقہ کے نوبیل انعام یافتہ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کا کہنا ہے کہ وہ ہم جنس پرستی کو گناہ قرار دینے والے خدا کی عبادت کرنے کی بجائے جہنم میں جانا پسند کریں گے۔
سابق بشپ نے یہ بات جنوبی افریقہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے چلائی جانے والی مہم کے آغاز پر کہی۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ نوی پِلے کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ہم جنس پرستوں کے تعلقات کو قانونی حیثیت حاصل ہونے کے باوجود ان کے خلاف تشدد کے بدترین واقعات ہوئے ہیں۔
اکیاسی سالہ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بہت بڑے حامی ہیں۔
وہ 1996 میں کیپ ٹاؤن کے بشپ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
نوی پلے کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایک تہائی سے زیادہ ممالک میں ہم جنس تعلقات کو قانونی حیثیت حاصل ہے جبکہ پانچ ممالک میں اس کی سزا موت ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق برِاعظم افریقہ کے اٹھتیس ممالک میں ہم جنس تعلق قائم کرنا ایک جرم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیپ ٹاؤن میں ’فری اینڈ ایکول‘ نامی اس مہم کے آغاز پر بشپ ٹوٹو کا کہنا تھا کہ ’میں ایسی جنت میں جانے سے انکار کر دوں گا جو ہم جنس پرستی کے خلاف ہو۔ میں معذرت کر لوں گا کہ نہیں، میں اس کی بجائے جہنم میں جانا پسند کروں گا۔‘
ان کا کہنا تھا ’میں اس معاملے کے بارے میں اتنی شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ میں ایسے خدا کی عبادت نہیں کروں گا جو ہم جنس پرستی کے خلاف ہو۔‘
بشپ ٹوٹو کا کہنا تھا کہ ہم جنس پرستی کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف مہم ایسے ہی ہے جیسے نسل پرستی کرنے والوں کے خلاف مہم چلانا۔
’میرے اندر اس مہم کے بارے میں وہی جذبہ ہے جو نسل پرستی کے خلاف تھا۔ میرے لیے یہ دونوں ایک ہی سطح پر ہیں۔‘
نوی پلے کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ میں 1994 میں نسلی تعصب کے خاتمے کے بعد ہم جنس پرست مرد اور خواتین کو بہترین قانونی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود انہیں بہیمانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
گذشتہ ماہ ہی ایک ہم جنس پرست خاتون کی لاش ملی تھی جنہیں ایک برش سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے ایے ایف پی کے مطابق نوی پلے کا کہنا تھا کہ ’لوگ اپنی محبت کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کو ان ممالک میں بھی تسلیم کروانے کی کوشش کرے گا جہاں یہ غیر قانونی ہیں۔
بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو کو نسلی تعصب کے خلاف مہم چلانے پر 1984 میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔







