کیلیفورنیا میں ہم جنس شادیوں کی اجازت

سنہ 2008 میں کیلیفورنیا میں سب سے پہلے ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنسنہ 2008 میں کیلیفورنیا میں سب سے پہلے ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہم جنس شادیوں پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہم جنس شادیوں کو وہی درجہ دینے کا اعلان کیا ہے جو ایک مرد اور عورت کی شادی کو ملتا ہے۔

کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے سرکٹ کورٹ نے ہم جنس شادی کے حق میں دائر اپیل پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سنہ 2008 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سب سے پہلے ہم جنس شادیوں پر ووٹنگ کے ذریعے پابندی عائد کی گئی تھی۔

عدالت کا فیصلہ آنے کے فوری بعد شہر میں ہم جنس شادیوں کی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے۔

امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ بارہ دیگر ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ان ریاستوں کی سرحدوں کے باہر جاتے ہی ہم جنس شادی شدہ جوڑوں کے حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر وہ سرکاری نوکری کریں تو انھیں ٹیکس اور پینشن کے فائدے بھی نہیں مل پاتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے ۔انھوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ نے ایک غلطی کو درست کیا ہے اور اب ہم بہتر حالات میں رہ سکیں گے۔

امریکہ میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 55 فیصد امریکی ہم جنس شادیوں کے حق میں ہیں جبکہ 44 فیصد نے ہم جنس شادیوں کی مخالفت کی ہے۔

امریکہ میں حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی نے ہمشہ ہم جنس شادیوں کی مخالفت کی ہے۔ ریپبلکن جماعت نے اپنے بیان میں اس فیصلے پر نا اُمیدی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر ملک میں بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

بیان کے مطابق امریکہ میں ایک وقت ایسا آئے گا جب شادی کو ایک مرد اور عورت کے طور پر ہی تسلیم کیا جائے گا۔