امریکہ: ہم جنس شادیوں کے حق میں فیصلہ

امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہم جنس شادیوں کو وہی درجہ دینے کا اعلان کیا ہے جو ایک مرد اور عورت کی شادی کو ملتا ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ نے وفاقی قانون کو غیر آئینی قرار دیا ہے جس کے تحت شادی صرف مرد اور عورت کے درمیان ہی ہوتی ہے۔
امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ بارہ دیگر ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ان ریاستوں کی سرحدوں کے باہر جاتے ہی ہم جنس شادی شدہ جوڑوں کے حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر وہ سرکاری نوکری کریں تو انھیں ٹیکس اور پینشن کے فائدے بھی نہیں مل پاتے ہیں۔
فیصلے سے پہلے منگل کی شب ہی ہم جنس جوڑوں کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر موجود تھی اور فیصلے سننے کے بعد ہم جنس جوڑوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سپریم کورٹ کے باہر جشن کا سا سماں تھا۔
سپریم کورٹ کے باہر اپنے جوڑی دار سینڈی کے ساتھ موجود کریس کہنا تھا ’ وہ بھی اب شادی کریں گے اور جو حق ایک امریکی خاندان کو ملتا ہے اسی حق کے ساتھ یہاں رہیں گے۔‘
امریکی صدر براک اوباما نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے ۔
انھوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ نے ایک غلطی کو درست کیا ہے اور اب ہم بہتر حالات میں رہ سکیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کے مطابق امریکہ میں ہم جنس پرستی ایک حساس موضوع ہے۔پہلے صدر براک اوباما ہم جنس شادیوں کے مخالف تھے۔ لیکن پچھلے برس اُنھوں نےاس کے حق میں بیان دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
براک اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے ہم جنس شادیوں کی وکالت کی ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ملک کی بدلتی سیاسی سوچ صدر اوباما کے موقف میں تبدیلی کا سبب بنی ہے۔
امریکہ میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 55 فیصد امریکی ہم جنس شادیوں کے حق میں ہیں جبکہ 44 فیصد نے ہم جنس شادیوں کی مخالفت کی ہے۔
امریکہ میں حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی نے ہمشہ ہم جنس شادیوں کی مخالفت کی ہے۔ ریپبلکن جماعت نے اپنے بیان میں اس فیصلے پر نا اُمیدی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر ملک میں بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ بیان کے مطابق امریکہ میں ایک وقت ایسا آئے گا جب شادی کو ایک مرد اور عورت کے طور پر ہی تسلیم کیا جائے گا۔







