چین: ہم جنس پرستی کے اعلان کی ویڈیو ہٹ ہوگئی

اس فلم کو چین کی سب سے بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’QQ‘ پر سو کڑوڑ سے ذیادہ دفعہ دیکھاجا چکاہے

،تصویر کا ذریعہAH QIANG PFLAG

،تصویر کا کیپشناس فلم کو چین کی سب سے بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’QQ‘ پر سو کڑوڑ سے ذیادہ دفعہ دیکھاجا چکاہے

چین میں نئے سال کے موقعے پر جاری کی گئی ایک ویڈیو جس میں ایک بیٹا اپنے والدین کو اپنے ہم جنس پرست ہونے کے بارے میں بتاتا ہے، ملک میں انٹرنیٹ پر نہایت مقبول ہوئی ہے۔

نئے سال کے آغاز پر لاکھوں چینی خاندان اکٹھے ہوتے ہیں اور انواع اقسام کے کھانے بنا کر اور آتش بازی کر کے خوشیاں مناتے ہیں۔

اس موقع پر والدین اکثر اپنے جوان بچوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ وہ شادی کرنے کا کب ارادہ رکھتے ہیں اور کیا ان کی نظر میں کوئی مناسب رشتہ ہے۔

اس سال موسم بہار کے تہوار میں ہو سکتا ہے کہ وہ اور چیزوں کے علاوہ اپنے بچوں سے ہم جنس پرستی پر بھی گفتگو کریں اور اس کی وجہ وہ فلم ہے جس میں ’فینگ چاؤ‘ نامی ایک شخص نئے سال کے موقعے پر اپنے خاندان والوں کو بتاتا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہے۔

اس فلم کو چین کی سب سے بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’QQ‘ پر سو کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

فلم چین میں ہم جنس پرستی کے متعلق معاشرتی رویوں کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے

،تصویر کا ذریعہAH QIANG PFLAG

،تصویر کا کیپشنفلم چین میں ہم جنس پرستی کے متعلق معاشرتی رویوں کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے

اس فلم میں فینگ کے والدین اس کی ہم جنس پرستی کے بارے میں جاننے کے بعد دو سال تک اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔

فلم کے آخر میں ہم جنس پرست مردوں کی ماؤں کے حقیقی پیغامات اور مشورے ہیں۔ ایک پیغام میں ایک ماں کا کہنا ہے کہ ’اپنی زندگی کی کہانی اپنے والدین کو سنائیں، وہ آپ کو سننے کے لیے تیار ہیں۔‘

ایک اور پیغام میں ایک ماں نے والدین سے مخاطب ہوتے ہوے کہا کہ ’ شادی کے بارے میں روایتی خیالات اور معاشرتی رواج کو اپنے بچے کے گھر آنے کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔‘

فلم بنانے والوں میں ’اے ایچ کیینگ‘ بھی شامل ہیں جو امریکہ میں شروع ہونے والی لوگوں کے جنسی روجحانات، صنفی شناخت اور جنسی اظہار کے قطح نظر معاشرے میں ان کی شمولیت کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’پی ایف ایل اے جی‘ کی ’گوانگ ژو‘ شاخ چلاتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیینگ کا کہنا تھا کہ ’ میری والدہ کا 2006 میں انتقال ہو گیا تھا اور مجھے افسوس ہے کہ میں ان کو اپنے ہم جنس پرست ہونے کے بارے میں بتا نہیں سکا۔‘

دو سال بعد کیینگ نے اپنے والد اور سوتیلی ماں کو اپنے ہم جنس پرست ہونے کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے اپنے والدین کو اپنے گھر پر مدعو کیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ ان کی کوئی گرل فرینڈ کیوں نہیں ہے۔ ’میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ کوئی سوال پوچھنا چاہیں گے، تو ان کا ایک ہی سوال تھا کہ بڑھاپے میں کون تمہاری دیکھ بھال کرے گا؟ میرا جواب تھا کہ ’میرے دوست اور میں بڑھاپے کے لیے بچت بھی کر رہا ہوں۔‘

کیینگ کے مطابق چین کی انٹرنیٹ کی سنسر شپ کی پالیسی کے باوجود سماجی رابطوں کی سائٹس نے لوگوں کو ہم جنس پرستی پر بحث کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چینی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’QQ‘ نے شروع میں اس فلم کو پہلے پیج پر لگانے سے یہ کہ کر معذرت کر لی تھی کہ اس میں ہم جنس پرستی کے پیغام کو فروغ دیا گیا ہے لیکن اس کی مقبولیت کی وجہ سے کچھ دن بعد اس کو سائٹ کے پہلے پیج پر لگا دیا گیا۔