ہم جنسوں کے خون دینے پر پابندی اٹھا لی جائے گی

برطانیہ میں انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ ہم جنس اور دو جنس (بائے سیکچوئل) پرستوں کے تاحیات خون دینے پر سے پابندی اٹھا رہے ہیں۔
وزراء اس بات پر متفق ہیں کہ نومبر سے ان افراد کے خون دینے پر سے پابندی اٹھا لی جائے گی جنہوں نے گزشتہ بارہ ماہ میں کسی دوسرے مرد سے جنسی رابطے نہیں رکھے۔
یہ پابندیاں انیس سو اسی کی دہائی میں اس لیے لگائی گئی تھیں کہ تاکہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
تاہم ایک حکومتی پینل کو بھیجی گئی حالیہ طبی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
برطانیہ کے تینوں ممالک کے وزراء نے رپورٹ کے دلائل کو تسلیم کرنے کے بعد کہا ہے کہ وہ قوانین میں نرمی لا رہے ہیں جبکہ شمالی آئرلینڈ جلد ہی اس پر کوئی فیصلہ کرنے والا ہے۔
کئی دوسرے ممالک میں اسی طرح کے فیصلے کیے گئے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں وہ ہم جنس خون دے سکتے ہیں جنہوں نے گزشتہ چھ ماہ سے کسی دوسرے سے جنسی رابطہ نہ رکھا ہو۔ آسٹریلیا، سویڈن اور جاپان میں یہ وقفہ ایک سال رکھا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں گزشتہ برس شائع ہونے والی ایک تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قوانین میں نرمی سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں کوئی واضح فرق نہیں پڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







