’عالمی رہنما شامی پناہ گزیں بچوں کو بچانے میں ناکام‘

ملالہ یوسفزئی نے شامی پناہ گزینوں کے بدترین بحران کو ’سوہان روح‘ المیہ قرار دیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملالہ یوسفزئی نے شامی پناہ گزینوں کے بدترین بحران کو ’سوہان روح‘ المیہ قرار دیا

امن کا نوبل انعام جیتنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ عالمی رہنما شامی پناہ گزینوں خصوصاً شامی بچوں کو بچانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بات اپنی 18 ویں سالگرہ کے موقع پر لبنان کی وادی بقاع میں ایک ایسے سکول کے افتتاح کرتے ہوئے کہی جس میں شامی پناہ گزین لڑکیاں تعلیم حاصل کریں گی۔

ملالہ فنڈ کے تعاون سے تعمیر ہونے والے اس سکول میں اپنی تقریر نے دوران انھوں نے لبنان، خطے اور عالمی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ شامی پناہ گزینوں، اور خاص طور پر بچوں کو بچانے میں ’ناکام ہورہے ہیں۔‘

انھوں نے حالیہ دہائیوں میں پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کے بدترین بحران کو ’سوہان روح‘ المیہ قرار دیا۔

ملالہ یوسفزئی نے لبنان کی کوششوں کی تعریف کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ لبنان اور اردن میں بڑی تعداد میں آنے والے پناہ گزینوں کو ’سرحدوں پر واپس بھیجا جا رہا ہے، جہاں وہ نو مینز لینڈ پر بغیر کسی مدد کے رہ رہے ہیں۔‘

انھوں نے اس سلوک کو ’شرمناک اور غیرانسانی‘ قرار دیا۔

لبنان میں حکام کے مطابق شام کی تقریباً ایک تہائی آبادی لبنان میں مقیم ہے اور وہ مزید آنے والے پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق شام سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے

لبنان اور اردن میں حکام کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے انھیں بین الاقوامی برادری کی جانب سے مناسب تعاون حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ شام سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں افراد اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کو بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پرگذشتہ برس نوبل انعام دیاگیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی انھیں تعلیم کے حصول کے لیے طالبان کے سامنے ڈٹ جانے پر کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں ملالہ یوسفزئی کی عمر 15 سال تھی جب پاکستان کے صوبہ خیبرپحتونخوا کے شہر مینگورہ میں سکول سے وین میں گھر جاتے ہوئے ایک حملے میں انھیں سر پر گولی ماری گئی تھی۔

اس حملے میں ان کے ساتھ دو اور طالبات شازیہ اور کائنات زخمی ہوگئی تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔