17 سالہ ملالہ کیلاش ستیارتھی کے ہمراہ مشترکہ طور امن کا نوبیل انعام حاصل کریں گی۔
،تصویر کا کیپشنلڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی دس دسمبر کو امن کا نوبیل انعام حاصل کر رہی ہیں۔ انھیں یہ انعام بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستھیارتھی کے ہمراہ مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنملالہ نے بی بی سی اردو کے لیے گل مکئی کے قلمی نام سے سوات میں طالبان کے دور میں ڈائریاں لکھ کر شہرت پائی اور بعدازاں وہ اپنے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرتی نظر آئیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی وادی سوات میں طالبان دو برس قبل ملالہ یوسفزئی کو اس وقت قتل کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ سکول سے گھر جا رہی تھیں۔
،تصویر کا کیپشننو اکتوبر 2012 کو شدید زخمی ملالہ کو علاج کےلیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد پاکستان میں طالبان کے خلاف نفرت کی لہر اٹھی اور ملک کونے کونے میں طالبان کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنحکومت پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے خاندان کو برطانیہ منتقل کرنے میں ان کی مدد کی۔ حکومت پاکستان نے ملالہ کے والد ضیا الدین کو برمنگھم کے قونصل خانے میں ملازمت دی۔
،تصویر کا کیپشنبرمنگھم کے ہسپتال میں مہینوں تک زیر علاج رہنے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنملالہ یوسفزئی نےصحت مند ہونے کےبعد تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جس سے روکنے کے لیے طالبان نے ان پر حملہ کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں مقیم ملالہ اب دنیا کے ہر فورم پر خواتین کی تعلیم کی وکالت کرتی نظر آتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمغربی دنیا میں ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے پھیلاؤ کی کوششوں کی زبردست پذیرائی ملی۔ یہاں وہ برطانوی ملکہ الزبتھ سے ملاقات کر رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر کھل کر بات کی۔
،تصویر کا کیپشنملالہ یوسفزئی دوسری پاکستانی ہیں جنھیں نوبل انعام ملا ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر عبدالاسلام کو 1979 میں فزکس کے شعبے میں نوبل انعام ملا تھا۔
،تصویر کا کیپشننو دسمبر 2014 کو انھوں نے ناروے میں کیلاش ستھیارتھی کے ہمراہ نوبیل انعام یافگان کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔
،تصویر کا کیپشننوبیل امن انعام کی تقریب میں شرکت کے لیے ملالہ نے اپنی دو ساتھی طالبات کائنات اور شازیہ اور پاکستان کے صوبہ سندھ میں ریپ کا شکار ہونے والی کائنات سومرو کے علاوہ نائجیریا اور شام کی دو لڑکیوں کو بھی مدعو کیا۔