’شامی پناہ گزینوں کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کرگئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینان کا کہنا ہے کہ شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد 40 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والے اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق ان افراد میں سے زیادہ تر اردن، لبنان اور ترکی میں ہیں جبکہ کچھ عراق میں دوبارہ سے تنازع شروع ہونے کے باوجود وہاں چلے گئے ہیں۔
شام میں تقریباً 70 لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر سنہ 2011 میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً آدھی آبادی اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 25 سالوں میں یہ پناہ گزینوں کا سب سے بڑا بحران ہے اور اس نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزینان انتونیو گیوٹریس کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’کسی ایک تنازعے میں پناہ گزینوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ وہ آبادی ہے جسے دنیا کی مدد کی ضرورت ہے لیکن وہ سنگین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور غربت میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔‘
پناہ گزینوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے سے ترکی پر بھی اثر پڑا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینان کے مطابق صرف جون میں 24 ہزار سے زیادہ افراد شمالی شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے ترکی آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تقریباً 18 لاکھ شامیوں کو پناہ دینے والا ملک ترکی پناہ گزینوں کو پناہ دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ترکی ان کے تمام اخراجات اپنے خزانے سے ادا کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادارہ برائے پناہ گزینان کی ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’یو این ایچ سی آر کی جانب سے کسی بھی ایک تنازعے کی وجہ سے امداد دیے جانے والے پناہ گزینوں کی یہ تعداد 25 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل ادارے نے سنہ 1992 میں تقریباً 46 لاکھ افغان پنا گزینوں کو مدد فراہم کی تھی۔‘
سنہ 2011 میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے اب تک شام میں دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق رواں سال میں شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر درکار ہوں گے جبکہ ابھی تک اس رقم کا ایک چوتھائی سے بھی کم حصہ حاصل ہو سکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کا مطلب ہے کہ پناہ گزینوں کو خوراک میں کمی، صحت اور زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے اور بچوں کو سکول بھیجنے کے لیے جد جہد کرنا ہو گی۔‘







