پناہ کے متلاشی مہاجرین میں بڑا اضافہ

جرمنی کے شہر برلن میں پناہ کے درخواست دہندگان ایک اندارج مرکز پر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجرمنی کے شہر برلن میں پناہ کے درخواست دہندگان ایک اندارج مرکز پر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس ترقی یافتہ ممالک میں پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد میں پچاس فیصد زیادہ ہوا ہے جو کہ بائیس برس میں ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا اندازہ ہے کہ سنہ 2014 میں آٹھ لاکھ 66 ہزار مہاجرین نے ترقی یافتہ ممالک میں پناہ کی درخواست کی جو کہ سنہ 2013 کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ تھی اور بوسنیا میں جنگ کے بعد یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجہ شام اور عراق میں خانہ جنگی ہے۔

پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں جرمنی میں موصول ہوئیں جن کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار تھی جو کہ یورپی یونین میں موصول ہونے والی کُل درخواستوں کا 30 فیصد ہے۔

جرمنی کے بعد پناہ کے متلاشی افراد نے سب سے زیادہ درخواستیں امریکہ، ترکی، سویڈن اور اٹلی کو بجھوائیں۔ رپورٹ میں شامل 44 ممالک کو وصول ہونے والی درخواستوں میں سے 60 فیصد درخواستوں اِن پانچ ممالک کو بھیجی گئیں۔

جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دینے والوں میں ایک چوتھائی تعداد شامیوں پر مشتمل تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجرمنی میں پناہ کی درخواستیں دینے والوں میں ایک چوتھائی تعداد شامیوں پر مشتمل تھی

یو این ایچ سی آر کی ترجمان میلسا فلیمنگ کا کہنا ہے پناہ گزینوں کی تعداد میں اس اضافے کا تعلق شام اور عراق میں جاری تنازعوں کے نتیجے میں جنم لینے والے ’ ہمارے دور کے سب سے بڑے انسانی بحران‘ سے ہے۔

صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ترجمان نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھولیں اور اس صورتحال کا جواب بھی اسی فراخدلی سے دیں جس کا مظاہرہ انھوں نے سنہ1990 کی دہائی میں جنگ بلکان کے دوران کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ میں دیے گئے اعداد وشمار میں وہ لاکھوں شامی مہاجرین شامل نہیں ہیں جنھیں لبنان اور اردن جیسے ممالک نے اپنے ہاں پناہ دی ہے۔

سنہ 2014 ترقی یافتہ ممالک میں پناہ کی درخواست کرنے والے شامیوں کی تعدا تقریباً 150,000 رہی جوکہ سنہ 2013 میں 56,300 تھی۔

سنہ 2011 میں شام میں لڑائی کے آغاز سے اب تک وہاں دو لاکھ 15 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

44 مممالک میں پناہ کے خواہشمند افراد میں تعداد کے لحاظ سے افغانی تیسرے نمبر پر رہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن44 مممالک میں پناہ کے خواہشمند افراد میں تعداد کے لحاظ سے افغانی تیسرے نمبر پر رہے

شام کے بعد پناہ کی سب سے زیادہ درخواستوں عراقیوں کی جانب سے موصول ہوئیں جن کی تعداد 68,7000 رہی جو سنہ 2013 میں 37,300 تھی۔

رپورٹ کے مطابق عراق کے بعد تیسرا بڑا ملک افغانستان رہا اور اس کے بعد سربیا اور کوسوو اور اریٹیریا رہے۔

جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دینے والوں میں ایک چوتھائی تعداد شامیوں پر مشتمل تھی جبکہ امریکہ میں پناہ کے خواہشمند افراد میں سب سے زیادہ تعداد میکسیکو کے ان لوگوں کی رہی جو ملک میں منشیات سے منسلک گروہوں کی لڑائی سے تنگ آ کر وہاں سے فرار چاہتے ہیں۔