بیلجیئم کے افغان پناہ گزین

200 افغانی گذشتہ سال کے آخر سے برسلز کے ایک چرچ میں پناہ لیے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشن200 افغانی گذشتہ سال کے آخر سے برسلز کے ایک چرچ میں پناہ لیے ہوئے ہیں

بیلجیئم میں موجود سیاسی پناہ کے متمنی سینکڑوں افغان باشندوں نے ملک بدر کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ان افغان باشندوں نے 17ویں صدی کے ایک چرچ میں پناہ لی ہوئی ہے۔

ان سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈنکن کرافورڈ نے بات کی۔

27 سالہ مروا محبوب نے بتایا کہ ’مجھے طالبان سے مسئلہ ہے اور یہاں موجود اکثر لوگوں کو ان سے مسئلہ ہے۔‘

مروا ان 200 افغانیوں میں سے ایک ہیں جو گذشتہ سال کے آخر سے برسلز کے اس چرچ میں موجود ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان کے صوبے ہلمند سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 2008 میں اس وقت افغانستان سے فرار ہو گئی تھیں جب طالبان نے انھیں خواتین کے حقوق کی ترویج کرنے پر دھمکیاں دی تھیں۔

ان کے بار بار درخواست دینے کے باوجود بیلجیئم نے انھیں سیاسی پناہ دینے سے انکار کیا ہے، جب کہ ان کا کہنا ہے کہ ’میں افغانستان واپس جانے کی بجائے یہاں مرنا زیادہ پسند کروں گی۔‘

اس چرچ کو خیمہ بستی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور بنچ ہٹا کر گدے بچھانے کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ لوگ اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لیے لیمپ کے اردگرد جمع ہیں اور بچے چرچ کے فرنیچر سے کھیل رہے ہیں۔

ان بچوں میں سے کوئی بھی سکول نہیں جاتا۔

گذشتہ سال کے دوران 1300 افغانیوں نے بیلجیئم میں سیاسی کی درخواست دی تھی جب کہ 20 ہزار نے یورپ بھر میں سیاسی کی درخواست دی تھی۔

 بیلجیئم میں سیاسی پناہ کے خواہشمند افغانیوں نے اپنے مسائل کے بارے میں ملک بھر میں احتجاج کیا ہے
،تصویر کا کیپشن بیلجیئم میں سیاسی پناہ کے خواہشمند افغانیوں نے اپنے مسائل کے بارے میں ملک بھر میں احتجاج کیا ہے

مہاجرین کی عالمی تنظیم آئی او ایم نے نیٹو کے افغانستان سے جانے کے بعد اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ رچرڈ ڈینزیگر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بہت بے یقینی پائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ پناہ کے خواہش مندوں افغانوں میں اضافہ ہو گا جو یورپ آئیں گے، مگر بڑے پیمانے پر نہیں۔‘

بعض افغان خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ نیٹو کے جانے کے بعد خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، جبکہ بعض کہتے ہیں بیرونی امداد میں کمی کے نتیجے میں افغان معیشت تباہ ہو جائے گی۔

بیلجیئم میں موجود افغانیوں نے اپنے مسائل کے بارے میں احتجاج کر کے توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ ایک بینر پر لکھا ہے: ’ہم خطرناک نہیں ہیں بلکہ ہمیں خطرہ لاحق ہے۔‘

بعض کا شکوہ ہے کہ وہ ایک قانونی مسئلے میں پھنسے ہوئے ہیں جس میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والوں پر کام کرنے کی پابندی ہوتی ہے۔

فلیمش رفیوجی ایکشن کی ایلس کیٹسمین نے بی بی سی کو بتایا کہ بیلجیئن حکومت کو اس بارے میں مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

بیلجیئن حکومت کا اصرار ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ ایک آزاد ادارہ ان درخواستوں پر فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے۔

ان افراد میں کئی بچے بھی ہیں جو سکول نہیں جا سکتے
،تصویر کا کیپشنان افراد میں کئی بچے بھی ہیں جو سکول نہیں جا سکتے

ڈرک وین ڈین بلک رفیوجی اینڈ سٹیٹ لیس پرسنز کے کمشنر جنرل ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’ان مظاہروں کا پناہ کی درخواستوں کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بعض حصوں میں واپس جانا محفوظ ہے: ’میرا دفتر افغانستان کو مسائل کا شکار سمجھتا ہے مگر اتنے مسائل کا شکار نہیں کہ افغانستان سے آنے والے ہر شخص کو تحفظ کے دائرہ کار کے تحت تحفظ دیا جائے۔‘

شام، عراق، صومالیہ اور دوسرے ممالک سے آنے والے ہزاروں مہاجرین کی یورپ آمد کے نتیجے میں کئی ممالک میں پناہ کی درخواستوں پر ابھی فیصلے ہونا باقی ہیں۔

دنیا کے مختلف خطوں میں موجود مسائل کی وجہ سے یورپ میں پناہ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور اس سے مزید دباؤ بڑھے گا۔

تحفظ کی خاطر وطن ترک کرنے والوں کے سامنے شدید مسائل ہوتے ہیں اور پرخطر سفر بھی جس میں ان کی قسمت انسانی سمگلروں کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو انھیں بہت دفعہ درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں۔

منزل پر پہنچنے کے بعد بھی زندگی کچھ اچھی نہیں ہوتی۔ ان میں سے کئی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے جب کہ بہت سوں کو سڑکوں پر سرد اور فاقہ کشی سے بھرپور زندگی گزارنا پڑتی ہے۔

مروا کا خواب بیلجیئم میں مستقل رہنے کا ہے: ’ہم ملازمتیں چاہتے ہیں، ٹیکس دینا چاہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی طرح گھر کرائے پر لینا چاہتے ہیں۔‘