برطانیہ نے ایک افغان ملحد کو پناہ دے دی

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ میں ایک افغان باشندے کو اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے پناہ دی گئی ہے۔
یہ شخص 2007 میں افغانستان میں جاری لڑائی میں اپنے خاندان کی شمولیت کی وجہ سے 16 برس کی عمر میں برطانیہ آ گیا تھا۔انھیں اس وقت 2013 تک برطانیہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔
<link type="page"><caption> کیا لادینیت مذہب بنتا جا رہا ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130205_atheist_church_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
اس شخص کو قانونی مدد فراہم کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پرورش بحثیت مسلمان ہوئی تھی تاہم وہ برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران ملحد ہوگئے۔
انھوں نے بتایا کہ اگر یہ افغانستان واپس چلے گئے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی اور ممکن ہے کہ انھیں سزائے موت دے دی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی شخص کے ملحد ہونے کی وجہ سے اسے برطانیہ میں پناہ دی گئی ہو۔
وکلا نے 1951 کے ریفیوجی کنونشن کے تحت وزراتِ داخلہ سے رابطہ کیا تھا جس کا مقصد لوگوں کو نسل پرستی، مذہب، قومیت، یا کسی مخصوص سماجی یا سیاسی گروہ سے نسبت کی باعث پہنچنے والی تکالیف سے بچانا ہے۔
ان کا مقدمہ قانون کی طالبہ کلیئر سپلان نے تیار کیا اور اس میں ان کی مدد وکیل شیونا یارک نے کی۔ سپلان نے کہا: ’ہم نے اس بات پر بحث کی کہ کسی ملحد کو بھی اتنا ہی تحفظ ملنا چاہیے جنتا مذہبی عقائد رکھنے والے کو ملتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ میں ایک انسان دوست ادارے کے سربراہ اینڈریو کاپسن کا کہنا ہے: ’انسان دوستوں، ملحدوں، اور دوسرے غیر مذہبی لوگوں کے لیے بھی عقائد کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ اتنا ہی اہم ہے جتنا مذہبی لوگوں کے لیے ان کے اپنے عقائد ہیں۔ تاہم مغربی حکومتوں کی جانب سے ان معاملات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
’یہ جان کر خوشی ہوئی کہ برطانیہ لادین لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔‘
برطانیہ کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے: ’ضرورت مندوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں برطانیہ کی تاریخ قابلِ فخر ہے۔ ہم ہر معاملے کو انفرادی طور پر دیکھتے ہیں۔‘







