فرانس میں امیگریشن قوانین میں نرمی کا بِل

،تصویر کا ذریعہ
فرانس کے وزیر خارجہ نے ملک میں امیگریشن اور پناہ کے قوانین کو آسان کرنے کے لیے ایک نیا قانونی مسودہ پیش کیا ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ برنار کاسینووا کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات نہایت ضروری ہیں تاکہ فرانس کی تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی سر زمین کی حیثیت برقرار رہے۔ یہ بات انھوں نے اخبار لبریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
<link type="page"><caption> یورپ آنے والے غیرقانونی تارکینِ وطن میں اضافہ</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/05/140530_illegal_eu_migration_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے مزید کہا وہ ملک جو دوسروں پر اپنے دروازے بند کر دیتے ہیں ان کا مقدر تنزل ہوتا ہے۔
ان کے مجوزہ قانون میں ہنرمند لوگوں کے لیے چار سالہ رہائشی اجازت نامہ تشکیل دیا جائے گا۔ یہ اجازت نامہ فن کاروں، سائنس دانوں، ایتھلیٹوں اور تجارتی ملازمین کے لیے ہو گا۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے پاس قیام کا اجازت نامہ پہلے سے موجود ہے وہ اس میں مزید چار سال کے لیے توسیع کروا سکتے ہیں۔
اس نئے قانون سے لوگوں کو نوکر شاہی کے موجودہ نظام کے سر درد سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا جس میں ہر سال ویزے میں توسیع کروائی جاتی ہے۔
وہ تمام غیر ملکی جو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے فرانس میں مقیم ہیں، دس سال کے لیے ویزے میں توسیع کی درخواست کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ فرانسیسی زبان پڑھ اور سمجھ سکتے ہوں۔
پناہ گزینوں کے لیے مجوزہ قانون میں یہ سہولت ہو گی کہ ان کے انتظار کا وقت کم ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت پناہ کی تلاش کرنے والوں کی درخواست پر عمل کا وقت دو برس ہے جبکہ نئے قانون کے تحت 2017 میں یہ کم ہو کر نو ماہ رہ جائے گا۔ اس کے علاوہ انھیں ایک وکیل اور حکومت کی رہائش گاہوں میں قیام کی سہولت میسر ہو گی۔ تاحال کئی لوگ حکومت کی جانب سے سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔
لیکن اس منصوبے پر بھی تارکینِ وطن کی تنظیموں نے تنقید کی ہے کیونکہ ان کے خیال میں یہ زیادہ دور رس نہیں ہوں گے۔







