اٹلی کے ساحل پر ایک کشتی سے 30 لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
اٹلي ميں حکام کا کہنا ہے کہ ان کی بحریہ اور کوسٹ گارڈز نے مچھلياں پکڑنے والي ايک کشتي سے تقریباً 30 لاشيں برآمد کي ہيں۔
يہ کشتي شمالي افريقي ساحل سے سسلي آ رہي تھي اور اس ميں غير قانوني تارکين وطن سوار تھے۔
اٹلي کي خبر رساں ايجنسي نے بحريہ اور ساحلي محافظوں کے حوالے سے کہا ہے کہ بچانے والوں کو اس کشتي ميں تقريباً 590 افراد سوار ملے جو انتہائي خستہ حالت ميں تھے۔ ان ميں دو حاملہ خواتين بھي شامل تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ کشتی میں سوار لوگوں کي موت دم گھٹنے سے ہوئي ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اٹلي کے ساحلي محافظوں کو روزگار کي تلاش ميں ترکِ وطن کرکے اٹلی آنے والوں کي کشتيوں سے لاشيں ملتی رہی ہیں، ليکن اتني بڑي تعداد ميں ہلاکتوں کا واقعہ پہلي بار سامنے آيا ہے۔
خبررساں ادارے اے ايف پي کے مطابق کشتي کو اٹلي کي بحريہ سسلي کے جنوب مشرقي ساحل پوزالو لے جا رہي ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
گذشتہ ہفتے کے دوران اطالوي محافظ دستوں نے 1600 سے زيادہ تارکين وطن کو بچايا ہے۔ اس طرح رواں سال ترکِ وطن کر کے اٹلي آنے والے لوگوں کي تعداد 60 ہزار سے زيادہ ہو گئي ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس سال ترکِ وطن کرنے والوں کي تعداد سنہ 2011 ميں ’عرب سپرنگ‘ کے دوران اٹلی آنے والے تارکین وطن کی سب سے زيادہ تعداد 63 ہزار سے تجاوز کر جائے گي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال روزگار کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افریقی تارکین وطن کی ایک کشتی اٹلی کے ساحل کے قریب آگ لگنے کے بعد ڈوب گئی تھی جس میں کم از کم 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جب سمندر کا موسم ٹھیک ہوتا ہے تو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے مہاجرین روزانہ شمالی اٹلی کے ساحل پر پہنچتے ہیں۔ ان کشتیوں کی حالت خراب ہوتی ہے جس میں عموماً گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہوتے ہیں اور برسوں سے لوگ کشتیاں ڈوبنے سے اسی طرح مرتے رہے ہیں۔







