شام میں اقوامِ متحدہ کا امدادی خوراک کا منصوبہ معطل

اس اقدام کے شامی شہریوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہreuters

،تصویر کا کیپشناس اقدام کے شامی شہریوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں

عالمی ادارۂ خوراک نے پیر سے اس سکیم کو بند کر دیا ہے جس کے تحت شام کے پڑوسی ممالک میں موجود 17 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو امدادی خوراک دی جاتی رہی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اسے یہ اقدام مالی مشکلات سے مجبور ہو کر اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ امداد دینے والے کئی ممالک اور ادارے اتنی مالی مدد نہیں کر رہے ہیں جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں تعطل کے بعد ’بے شمار شامی پناہ گزین گھرانے بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔‘

عالمی ادارہ خوراک کی سربراہ ارتھارن کوزن کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے شامی شہریوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں جو پہلے ہی شدید سرد موسم کی سختیوں سے بشمکل نبرد آزما ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ادارے نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ امدادی خوراک کے بند ہونے سے میزبان ملکوں میں موجود عدم استحکام میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

خدشہ ہے کہ سکیم میں تعطل کے بعد اب پڑوسی ممالک میں شامی پناہگزینوں کو بوجھ سمجا جائے گا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخدشہ ہے کہ سکیم میں تعطل کے بعد اب پڑوسی ممالک میں شامی پناہگزینوں کو بوجھ سمجا جائے گا

عالمی ادارے کی معطل ہو جانے والی امدادی خوراک کی سکیم کے تحت شامی پناگزینوں کو خوراک کے الیکٹرانک واؤچر یا رسیدیں دی جاتی تھیں جن پر پناہ گزین اردن، لبنان، ترکی، عراق یا مصر کے بازاروں سے سودا سلف خرید سکتے تھے۔

بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس سکیم میں تعطل کے بعد اب پڑوسی ممالک میں شامی پناہ گزینوں کو بوجھ سمجا جائے گا، اسی لیے عالمی ادارۂ خواراک بڑی شدت سے اپیل کر رہا ہے کہ اسے مزید مالی مدد فراہم کی جائے۔

شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں دو لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کی وجہ سے 30 لاکھ سے زیادہ شامی شہری پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں اور 65 لاکھ ملک کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس دوران پناہ دینے والے ممالک اور امدادی اداروں پر مالی دباؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

 شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں دو لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں دو لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

عالمی ادارہ خوراک کی سربراہ ارتھارن کوزن کا مزید کہنا تھا کہ کئی امدادی ممالک اور اداروں نے اپنے وعدے نہیں نبھائے ہیں، جس کے بعد ادارے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ صرف دسمبر کے مہینے میں شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال اور ان کی خوراک کے لیے اسے 64 لاکھ ڈالر کی رقم درکار ہو گی۔

مِس کوزن نے خبردار کیا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کی امداد کا پروگرام ’مالی امداد کے لحاظ سے بڑے نازک دور سے‘ گزر رہا ہے۔

ادارے نے مزید کہا کہ جوں ہی اسے امدادی رقوم موصول ہو جاتی ہیں، شامی پناہ گزینوں کے ’فوڈ واؤچر‘ کی سکیم فوراً بحال ہو جائے گی۔