’فضائی حملے دولتِ اسلامیہ کو کمزور کرنے میں ناکام‘

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون سے شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون سے شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے

شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں دو ماہ سے جاری فضائی حملے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو کمزور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انھوں نے جمعے کو لبنان ٹی وی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ترکی کو مجبور کیا جائے کہ وہ سرحد پر کنٹرول سخت کرے اور غیر ملکی جنگجؤں کو شام میں داخل ہونے سے روکے۔

ولید العلم کا کہنا تھا کہ ترکی کا شام کے شمال میں نو فلائی زون کا منصوبہ شام کی تقسیم کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون سے شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

ولید المعلم کا کہنا تھا کہ اگر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور واشنگٹن نے ترکی کو سرحدوں کو کنٹرول کرنے پر مجبور نہ کیا تو ان ففائی حملوں سے دولتِ اسلامیہ ختم نہیں ہو گی۔

ترکی بار بار ان دعوؤں کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے شامی باغیوں کی مدد کرتا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر اس سال اگست سے بمباری کر رہے ہیں تاہم شام کے مخالف گروہ جنھیں واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے دولتِ اسلامیہ اور شام کی افواج سے شکست کھا رہے ہیں۔