شام میں عسکری تربیت لینے کے الزام میں بھائیوں کو سزا

جج نے فیصلے میں کہا کہ ان دونوں کا ہدف شام کی حکومت تھی نہ کہ برطانیہ اور کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ بات ثابت ہو کہ ان دونوں نے شدت پسند کارروائیوں میں حصہ لیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجج نے فیصلے میں کہا کہ ان دونوں کا ہدف شام کی حکومت تھی نہ کہ برطانیہ اور کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ بات ثابت ہو کہ ان دونوں نے شدت پسند کارروائیوں میں حصہ لیا

برطانیہ میں عدالت نے دو بھائیوں کو شام میں عسکری تربیت لینے کے الزام میں قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ دونوں بھائی پہلے برطانوی شہری ہیں جن کو شام میں تربیت لینے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔

یہ دونوں بھائی ایسٹ لندن کے رہایشی ہیں۔ 30 سالہ محمد نواز کو ساڑھے چار سال جبکہ 24 سالہ حمزہ نواز کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان دونوں بھائیوں نے 2013 میں شام میں شدت پسند کیمپ میں تربیت لینے کا اعتراف کیا ہے۔

جج نے فیصلے میں کہا کہ ان دونوں کا ہدف شام کی حکومت تھی نہ کہ برطانیہ اور کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ بات ثابت ہو کہ ان دونوں نے شدت پسند کارروائیوں میں حصہ لیا۔

جج کرسٹوفر موس نے کہا ’دونوں کے موبائل فونز سے یہ بات واضح ہے کہ دونوں شدت پسند ٹریننگ کیمپ گئے تھے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ اگست میں نواز خاندان نے پولیس کو مطلع کیا تھا کہ دونوں بھائی لاپتہ ہیں۔

دونوں بھائی یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ کچھ کھانے جا رہے ہیں لیکن وہ حمزہ نواز کی گاڑی میں فرانس چلے گئے۔ فرانس سے دونوں بھائیوں نے ترکی کی فلائیٹ لی اور آخر کار سرحد پار کر کے شام میں داخل ہو گئے۔

ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ بھائی دریا پار کر کے شام میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایک شخص ان سے پوچھتا ہے کہ کس کی حمایت کرتے ہو جس کے جواب میں یہ جواب دیتے ہیں ’جنود الشام‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ بھائی دریا پار کر کے شام میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایک شخص ان سے پوچھتا ہے کہ کس کی حمایت کرتے ہو جس کے جواب میں یہ جواب دیتے ہیں ’جنود الشام‘

ان دونوں کی واپسی ستمبر میں ہوئی لیکن کو حرات میں لے لیا گیا کیونکہ ان سے کلاشنکوف کی گولیاں، موبائل پر فوٹوز اور شام میں جاری خانہ جنگی کی ویڈیوز برآمد ہوئیں۔

ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ بھائی دریا پار کر کے شام میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایک شخص ان سے پوچھتا ہے کہ کس کی حمایت کرتے ہو جس کے جواب میں یہ جواب دیتے ہیں ’جنود الشام‘۔

یہی شخص ان سے پوچھتا ہے ’یہاں جہاد کے لیے آئے ہو؟‘ تو جواب میں یہ کہتے ہیں ہاں جہاد۔‘