لبنان: شامی پناہ گزینوں پر پابندیاں، اقوامِ متحدہ کی تشویش

لبنان میں دس لاکھ سے زیادہ شامی شہری پناہ لے چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلبنان میں دس لاکھ سے زیادہ شامی شہری پناہ لے چکے ہیں

اقوامِ متحدہ نے لبنان کی جانب سے شام میں جاری خانہ جنگی سے فرار ہو کر لبنان میں پناہ لینے والے شامی شہریوں کے داخلے کو مزید سخت کرنے کی غرض سے نئی پابندیاں عائد کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا ادارہ چاہتا ہے کہ لبنان کی حکومت ’سب سے غیر محفوظ مہاجرین‘ کی لبنان تک رسائی کے حوالے سے وضاحت کرے۔

اس سے قبل لبنان اور شام کے درمیان سفر پر کوئی خاص پابندی نہیں تھی لیکن اب لبنان میں داخل ہونے کے لیے شامی شہریوں کو ویزا لینا پڑے گا۔

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لبنان میں دس لاکھ سے زائد شامی شہریوں نے پناہ حاصل کر رکھی ہے تاہم اب ایک سینئیر وزیر کا کہنا ہے کہ لبنان میں ’مزید شامیوں کو پناہ دینے کی گنجائش نہیں ہے۔‘

لبنان کے وزیرِ داخلہ نوہاد مشنوک نے پیر کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ ہمارے پاس پہلے ہی بہت زیادہ پناہ گزین ہیں اور مزید پناہ گزینوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

کئی پناہ گزینوں کو کیچڑ اور برف سے اٹے ہوئے عارضی خیموں یا کیمپوں میں رہنا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی پناہ گزینوں کو کیچڑ اور برف سے اٹے ہوئے عارضی خیموں یا کیمپوں میں رہنا پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ لبنان نے شام میں جاری خانہ جنگی سے فرار ہو کر لبنان میں پناہ لینے والے شامی شہریوں کے داخلے کو مزید سخت کرنے کے لیے پیر کو نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ نئی پابندیوں کا اطلاق ان شامیوں پر کیسے کیا جائے گا جو پہلے سے ہی لبنان میں موجود ہیں لیکن انھوں نے اپنا اندراج بطور پناہ گزین نہیں کرایا ہے۔

پیر سے پہلے کوئی بھی شامی شہری بلا روک ٹوک چھ ماہ تک لبنان میں قیام کر سکتا تھا لیکن نئی پابندیوں کے بعد لبنان میں داخلے کے خواہشمند کسی بھی شامی کے لیے ویزا حاصل کرنے کے لیے کچھ لوازمات کا پورا کرنا ضروری ہوگا۔

لبنان کے وزیرِ داخلہ کے ایک مشیر خلیل جبارا نے بی بی سی کو بتایا ’اب پناہ گزینوں کو صرف بہت محدود اور غیر معمولی مقدمات کے تحت لبنان آنے کی اجازت دی جائے گی۔‘

لبنان کے قانون سازی سے متعلق ادارے کے ایک رکن باسم شاب نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت شامی پناہ گزینوں کی کفالت کے لیے ’جو کر سکتی تھی کر چکی ہے۔‘

واضح رہے کہ لبنان میں موجود شامیوں کی تعداد حیران کن حد تک زیادہ ہے۔

اس وقت لبنان میں سرکاری طور پر رجسٹرڈ شامی پناہ گزینوں کی تعداد 11 لاکھ ہے جبکہ اندازہ ہے کہ اس کے علاوہ تقریباً پانچ لاکھ ایسے شامی بھی لبنان میں موجود ہیں جنھوں نے اپنا اندراج نہیں کرایا ہے۔

ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ لبنان جیسے چھوٹے ملک کی آبادی میں ہر تیسرا شخص شامی باشندہ ہے۔

لبنان میں مکانوں کے کرائے بڑھ چکے ہیں، اجرتیں کم ہو چکی ہیں اور یہاں پہنچنے والے شامی پناہ گزین ایک کمرے میں دس سے 15 تک کی تعداد میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اگر وہ ان تنگ کمروں میں نہیں رہتے تو انھیں کیچڑ اور برف سے اٹے ہوئے عارضی خیموں یا کیمپوں میں رہنا پڑتا ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو چکا ہے اور کچھ دیہاتوں اور قصبوں میں مقامی لوگوں نے پہرے لگا کر شامیوں کے داخلے پر کرفیو لگا دیا ہے۔

لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلبنان میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو چکا ہے۔

اس میں سب سے بڑھ کر یہ کہ لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ خوف ہے کہ ان کے ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ توازن تبدیل ہو رہا جو کہ آخر کار لبنان میں ایک نئی خانہ جنگی کا سبب بن سکتا ہے۔

نئی سختیوں کے بعد لبنان میں داخل ہونے کے خواہش مند ہر شامی کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ لبنان میں داخل ہونے کی وجہ بتائے اور اگر اسے ویزا دیا جائے گا تو وہ بھی ایک مقررہ مدت کے لیے ہوگا۔

اس کے علاوہ کام یا مزدوری کی غرض سے آنے والے شامیوں کے لیے ضروری ہوگا کہ ان کے پاس کسی لبنانی شہری یا کپمنی کی جانب سے منظوری یا سپانسرشپ بھی موجود ہو۔

لبنان میں پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان رون ریڈمونڈ کا کہنا ہے کہ لبنان نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران جو اقدامات اٹھائے ہیں اس سے ان شامیوں کی تعداد میں خاصی کمی ہو چکی ہے جو بطور پناہ گزین لبنان میں داخلے کے خواہشمند ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ نے لبنان کی حکومت کے اشتراک سے ایک ایسا نظام ترتیب دے رکھا ہے جس کے تحت ایسے شامیوں کو لبنان میں داخل ہونے سے نہیں روکا جاتا جو واقعی حالات سے مجبور ہو چکے ہیں۔

لیکن ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نئی پابندیوں پر اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

’حکومت کا کہنا ہے کہ شدید انسانی بحران میں مبتلا شامیوں کو لبنان میں داخل ہونے دیا جائے گا لیکن گذشتہ چند دنوں سے لبنان نے جن نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے ان میں ہمیں ایسے شامیوں کے لیے رعایت دکھائی نہیں دیتی۔

’ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر کوئی ایسا اعلان کیا جائے جس میں وضاحت کی جائے کہ نیا نظام کیسے کام کرے گا تا کہ ہم یہ یقینی بنا سکیں کہ ایسے پناہ گزین جو واقعی لبنان جانے پر مجبور ہو چکے ہیں، وہ اس نئے نظام سے متاثر نہ ہوں۔ لبنان کی حکومت کہتی ہے کہ وہ جلد ہی نئی پابندیوں کی واضاحت کر دے گی، ہم اسے چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جلد ہی ایسا ہوگا۔‘