’2014 میں شامی خانہ جنگی میں 76 ہزار ہلاکتیں‘

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف گروہوں نے سنہ 2011 میں انھیں اقتدار سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف گروہوں نے سنہ 2011 میں انھیں اقتدار سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی تھی

حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں شام میں جاری جنگ کے دوران 76 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور یہ تنازع کے چار برسوں میں سب سے خونی اور مہلک سال تھا۔

شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیم ’دی سیریئن آبزرویٹري فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 25 فیصد عام شہری ہیں۔

تنظیم کے مطابق سنہ 2014 میں سنہ 2013 سے ڈھائی ہزار زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور شام میں سنہ 2011 سے اب تک خانہ جنگی کے دوران مرنے والوں کی کل تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ گذشتہ برس شام میں جو 17790 عام شہری مارے گئے ان میں سے ساڑھے تین ہزار بچے تھے۔

ان کے علاوہ 22 ہزار سے زیادہ سرکاری فوجی اور حکومتی حمایت یافتہ ملیشیا کے ارکان، دولتِ اسلامیہ اور نصرہ فرنٹ جیسے شدت پسند گروہوں نے تقریباً 17 ہزار جنگجو، جبکہ 15 ہزار باغی جنگجو بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔

شام میں خانہ جنگی نے 30 لاکھ سے زیادہ افراد کو بےگھر بھی کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام میں خانہ جنگی نے 30 لاکھ سے زیادہ افراد کو بےگھر بھی کیا ہے

ان اعدادوشمار کی غیرجانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے لیکن سیریئن آبزرویٹري فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس نے یہ اعدادوشمار شام کے تمام علاقوں میں موجود اپنے ذرائع سے اکٹھے کیے ہیں۔

شام میں خانہ جنگی نے 30 لاکھ سے زیادہ افراد کو بےگھر بھی کیا ہے اور یہ لوگ جنگ سے بچنے کے لیے یا تو ملک کے دیگر علاقوں میں گئے ہیں یا پھر سرحد پار کر کے ہمسایہ ممالک میں پناہ گزیں ہیں۔

شام میں ہر روز گھر چھوڑنے پر مجبور لوگوں کی تعداد دوسرے عالمی جنگ میں پیش آئے پناہ گزینوں کے بحران کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2012 کے آغاز سے ہی شام کے پڑوسی ممالک میں شامی پناہ گزینوں کا سیلاب آ گیا تھا۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف گروہوں نے سنہ 2011 میں انھیں اقتدار سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی تھی اور یہی جدوجہد اب پھیل کر خانہ جنگی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔