شام: شدت پسند گروپ کا اہم فوجی اڈے پر قبضہ

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں القاعدہ سے منسلک شدت پسند گروپ النصرہ فرنٹ نے صوبہ ادلیب میں واقع ایک اہم فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔
شام کے مسئلے پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے اتوار کو شروع ہونے والی شدید لڑائی کے بعد شمالی صوبے ادلیب میں واقع وادی الدیف فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔
تاہم شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے صرف اتنی معلومات دی ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کئی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
حقوق انسانی کے ایک گروپ کے مطابق لڑائی میں کم از کم 31 فوجی ارو 12 باغی بھی مارے گئے ہیں تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس فوجی اڈے کا شدت پسندوں نے سال 2012 سے محاصرہ کر رکھا تھا اور سرکاری سکیورٹی فورسز نے کئی حملوں کو پسپا کیا تھا۔
النصرہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر تصدیق کی گئی کہ پیر کو فوجی اڈے پر مکمل قبضہ کر لیا گیا ہے اور اب وہاں نصب باردوی سرنگوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔
برطانیہ سے شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق فوجی اڈے کے علاوہ قریبی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔
اس فوجی اڈے پر قبضے سے پہلے النصرہ فرنٹ کے شدت پسندوں نے اس کے اطراف پر واقع سات فوجی چیک پوسٹوں اور قریبی فوجی اڈے حمیدیہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیرئین آبزرویٹری کے مطابق شدت پسند گروپ نے فوجی اڈے پر حملے میں ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور یہ ہتھیار اس نے گذشتہ ماہ مغرب کی حمایت یافتہ باغی تنظیم اسی آر ایف یا سیریئن ریولوشنری فرنٹ سے چھینے تھے۔
ایس آر ایف کی شام میں شکست مغرب کے لیے شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس کے برعکس شام میں شدت پسند تنظیمیں النصرہ فرنٹ اور اس کی حریف تنظیم دولت اسلامیہ شام اور عراق کے کئی حصوں پر قابض ہو چکے ہیں۔
شام میں سال 2011 سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت کے دوران اب تک دو لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 32 لاکھ کے قریب اندورن ملک نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
شام کے کئی علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کئی ہفتوں سے فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔







