شام: ڈرون حملے میں ’دولت اسلامیہ‘ کا سینیئر رکن ہلاک

’خودکش حملہ آوروں کے امیر‘ کہلانے والے اس جنگجو پر امریکہ نے 30 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا

،تصویر کا ذریعہUS DEPARTMENT OF US

،تصویر کا کیپشن’خودکش حملہ آوروں کے امیر‘ کہلانے والے اس جنگجو پر امریکہ نے 30 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا

امریکی فوج کے مطابق گذشتہ ماہ شام میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں’دولت اسلامیہ‘ کا ایک سینیئر رکن ہلاک ہوگیا ہے۔

ان کے مطابق طارق بن الطاہر بن الفالح الاعونی الحضری عراق میں خودکش دھماکے کرنے میں مدد فراہم کرنے اور لیبیا سے شام میں اسلحے کی ترسیل کا کام کرتے تھے۔

’خودکش حملہ آوروں کے امیر‘ کہلانے والے اس جنگجو پر امریکہ نے 30 لاکھ ڈالر کا انعام بھی رکھا تھا۔

تاہم ان کی ہلاکت کے بارے میں ابھی تک ’دولت اسلامیہ‘ نے کچھ نہیں کہا۔

حضری کو مبینہ طور پر 16 جون کو شمال شرقی شام کے قصبے شدادی میں ہلاک کیا گیا تھا۔

امریکی محمکہ خزانہ نے حضری کو ’بین الاقوامی دہشت گرد‘ قرار دیے جانے کے بعد پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے برطانیہ، البانیہ اور ڈینمارک سے آنے والے جنگجوؤں کو مدد فراہم کی تھی۔

حضری اپنی تنظیم کے لیے فنڈ بھی اکٹھا کرتے تھے جس میں 20 لاکھ ڈالر قطر کے ایک عطیہ دہندہ کی جانب سے حاصل ہوئے تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حضری کی ہلاکت ’دولت اسلامیہ ‘ پر شدید وار ہے۔

کیپٹین جیف ڈیویس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حضری کی ہلاکت سے ’دولت اسلامیہ‘ کی شام اور عراق میں لڑائی میں بین الاقوامی جنگجوؤں کو شامل کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑے گا اور ساتھ ہی شام اور عراق میں لوگوں اور آلات کی ترسیل میں بھی مشکل پیدا ہو گی۔‘

واضح رہے کہ جون میں ہی پینٹاگون نے کہا تھا کہ انھوں نے ایک ڈرون حملے میں حضری کے بھائی کو ہلاک کیا تھا۔