کردوں نے دولتِ اسلامیہ کےجنگجوؤں کو مار بھگایا

،تصویر کا ذریعہEPA
کرد فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے شام میں ترک سرحد کے قریب قصبے کوبانی سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو مار بھگایا ہے۔
اس سے قبل دولتِ اسلامیہ نے جمعرات کو کوبانی پر اچانک حملہ کر دیا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات تھیں۔
کچھ اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سرحدی علاقے کوبانی میں تازہ حملے کے دوران 206 شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ سیئرین آوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ علاقے میں داخل ہونے کے بعد دولتِ اسلامیہ نے ’ہر چیز کو آگ لگا دی‘ اور ملنے والی سینکڑوں لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں۔
اقوامتحدہ کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شہر حسکہ میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں کی وجہ سے 60 ہزار افراد نے نقل مکانی ہے۔
اس سے قبل سرحدی قبضے کوبانی میں کردوں کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یاد رہے کہ کرد فورسز نے اس سال جنوری ہی میں کوبانی کو دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول سے آزاد کروایا تھا۔
تازہ ترین مہم میں کرد جنگجوؤں کو رقہ کے قریب عسکری رسد فراہم کرنے والے اہم راستہ بند ہونے کے بعد سے دولتِ اسلامیہ نے دو محازوں پر حملے کیے۔
رقہ جیسے دولت اسلامیہ کا دارالخلافہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کو دولت اسلامیہ نے ایک سال قبل عراق اور شام کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مرکز کا درجہ دیا تھا۔
سیئرین آوبزرویٹری کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’طبی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے کوبانی کے 120 رہائشیوں کو راکٹوں اور نشانہ بازوں کے ذریعے قتل کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کی لاشیں مکانوں اور بازاروں میں بکھری پڑی تھیں۔
دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے جمعرات کو تازہ حملے کے بعد علاقے کا قبضہ سنبھالا ہے۔ پانچ ماہ قبل کرد جنگجوؤں نے امریکہ اتحادی افواج کی معاونت سے اس علاقے پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔
کوبانی کے علاقے پر حملے کا آغاز اُس وقت ہوا جب یکے بعد دیگرے دو بم حملوں کے بعد کار بم دھماکہ ہوا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اطلاعات ہیں کے جنگجو مہاجرین کے بھیس میں علاقے میں داخل ہوئے اور کچھ تو کرد ملیشا کی وردیوں میں ملبوس تھے۔ دولت اسلامیہ نے قریبی دیہات میں بھی 20 افراد کو ہلاک کیا ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں دولتِ اسلامیہ اور کرد ملیشا کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حسکہ شہر اور ترکی کے سرحدی علاقے سے تقریباً 60 ہزار افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔
گذشتہ چار برسوں میں شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک کروڑ سے زیادہ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔







