’سینا سے دولتِ اسلامیہ کے خاتمے تک جنگ رہے گی‘

مصر کی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمصر کی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے

مصر نے عہد کیا ہے کہ وادیِ سینا میں فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہاں سے تمام شدت پسندوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

فوجی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز دو عسکری چوکیوں پر شدت پسندوں کے بیک وقت حملوں میں 17 سپاہی ہلاک ہوئے ہیں تاہم کچھ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

یہ حملہ مصر میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم سے منسلک مقامی شدت پسند گروہوں کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

وادی سینا میں گذشتہ سال اکتوبر سے ہنگامی حالت نافذ ہے جب وہاں دہشت گرد حملوں میں درجنوں فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب سکیورٹی ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ بدھ کے روز قاہرہ میں ایک پولیس چھاپے کے دوران کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کے نو اہلکار مارے گئے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے بدھ کے روز مصر میں کئی مقامات پر حملے کیے ہیں جن میں ایک کار بم حملے میں مصر کے سرکاری وکیل استغاثہ حشام برکات بھی مارے گئے۔

اس واقعے کے بعد مصر میں امن و امان کی صورت حال مزید بگڑ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے کے شواہد وادی سینا میں سرگرم شدت پسند گروہ انصار بیت المقدس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس تنظیم نے نومبر میں دولت اسلامیہ کے ساتھ منسلک ہونے کا اعلان کیا تھا۔

’100 فیصد کنٹرول‘

فوج نے شمالی وادیِ سینا میں سو سے زیدہ شدت پسند جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران 17 فوجی بھی مارے گئے۔ تاہم بدھ کی شام فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ صورت حال ’سو فیصد کنٹرول میں ہے۔‘

وادی سینا میں ایک فوجی ناکہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنوادی سینا میں ایک فوجی ناکہ

مصری فوج کے بریگیڈیئر محمد سمیر نے کہا کہ ’حالات قابو میں ہیں اور حراست میں لیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں سے تفتیش جا رہی ہے۔‘

عینی شاہدین کے مطابق سینا کے شمالی شہر شیخ زوید میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں دیکھنے میں آئیں اور عسکری چوکیاں کار بموں کا نشانہ بھی بنائی گئیں۔

شہر کا مرکزی پولیس تھانہ بھی راکٹوں کی زد میں آیا اور اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے فوج کے ایک اہم کیمپ کو جانے والی سڑک کے کنارے بم نصب کیے۔

مصر نے جوابی کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ایف 16 لڑاکا طیاروں سے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی ہے اور مصری حکومت کو تعزیت کا پیغام بھیجا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ہر جگہ لڑنا ہوگا چاہے ایران ان کی حمایت کرے یا دولت اسلامیہ۔‘

2013 میں سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے وادیِ سینا میں سکیورٹی کی صورت حال کشیدہ ہوئی ہے جس کے دوران اب تک 600 سے زیادہ پولیس اور فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔

فوج کے مطابق غزہ کی سرحد کے قریب ایک ’بفر زون‘ قائم کیا گیا ہے اور یہاں زیر زمین سرنگوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے جہاں سے اسلحہ سمگل ہو کر جنگجوؤں تک پہنچتا تھا۔

قاہرہ میں پولیس کے چھاپے کے بعد اخوان المسلمین نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے مصر کے عوام کو صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کا پیغام دیا ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ چھاپے کے دوران مارے جانے والے یہ افراد ملک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے جمع ہوئے تھے۔

اخوان المسلمون نے اس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ پارٹی کی ایک کمیٹی کا حصہ تھے جو پارٹی کے قید سیاسی کارکنوں کے خاندانوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔