سینا کے شدت پسند کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مصر کے جزیرہ نما سینا میں کئی مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروہ ’سینائی پراوینس‘ نے بالآخر دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق اور اس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعرات 29 جنوری کو شمالی سینا میں فوجی تنصیبات اور ٹھکانوں پر سلسلہ وار حملوں میں تیس سے زیادہ افراد مارے گئے۔ ان حملوں کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ اب ظاہر ہوتا ہے کہ سینائی پراوینس اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان تعاون کس مقام پر پہنچ چکا ہے۔
یہ حملے مصری فوج کی ان کارروائیوں کے باوجود ہوئے ہیں جن کا مقصد جزیرہ نما سینا میں جاری مزاحمت کو کچلنا تھا۔
ماضی میں اسرائیل کے خلاف سینا کے علاقے میں کیے جانے والے حملوں کا ذمہ دار ’انصار بیت المقدس‘ نامی گروہ رہا ہے، لیکن نومبر 2014 میں انھوں نے اپنا نام تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا اور اس کے ساتھ دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کا بھی اعلان کر دیا تھا۔
جہاں تک ’انصارِ بیت المقدس‘ کا تعلق ہے تو یہ گروہ القاعدہ سے متاثر ہوا تھا اور اس نے اپنی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز جنوری سنہ 2011 میں حسنی مبارک کی حکومت کی برطرفی کے فوراً بعد کر دیا تھا۔
شروع شروع میں اس گروہ کی شہرت یہی تھی کہ یہ صرف اسرائیلی تنصیبات اور مفادات کو ہدف بناتا ہے۔ اس گروہ کی جانب ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کی توجہ پہلی مرتبہ جولائی 2012 میں اس وقت مبذول ہوئی جب اس نے گیس کی اس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری قبول کی جو اسرائیل اور اردن کو گیس فراہم کرتی ہے۔ اس کے محض ایک ماہ بعد گروہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کے سیاحتی قصبے ایلات پر گرنے والے راکٹ بھی انھوں نے ہی داغے تھے۔
اس کے بعد ستمر 2012 میں گروہ نے اسرائیل کے سرحدی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور گروہ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف بنائی جانے والی ایک توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاج میں کیا تھا۔
قاتلانہ حملے
اس گروہ نے مصری فوج اور پولیس کی خلاف حملوں کا آغاز اس وقت کیا جب سنہ 2013 میں صدر محمد مرسی کو زبردستی اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور مصر کے سکیورٹی اداروں نے محدم مرسی کی حمایتی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف کارروائیاں کرنا شروع کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت سے یہ گروہ کئی خود کش حملوں، چلتی گاڑیوں سے فائرنگ، قاتلانہ حملوں اور سر قلم کرنے کی کاررائیوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ اس عرصے میں گروہ نے سب سے بڑا قاتلانہ حملہ ستمبر 2013 میں اس وقت کیا جب اس نے قاہرہ میں وزیر داخلہ محمد ابراہیم کی گاڑی کو بم دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔
اس کے ایک ماہ بعد جنوبی سینا میں سکیورٹی ڈائریکریٹ اور پھر سویز نہر کے کنارے واقع شہر اسماعیلیہ میں فوج کے خفیہ ادارے کی عمارت پر بھی حملے کیے گئے۔
مصر میں غیر ملکی سیاحوں پر اس گروہ نے پہلا حملہ فروری 2014 میں کیا تھا جب اس نے ایک مسافر بس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اسرائیل کی سرحد میں داخل ہونے جا رہی تھی۔ اس حملے میں مصری بس ڈرائیور کے علاوہ جنوبی کوریا کے تین سیاح بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ پھر اسی سال اگست میں اس گروہ نے ایک ہولناک ویڈیو نشر کی جس میں ان چار مصری فوجیوں کے سرقلم ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا جن کے بارے میں گروہ کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کو خفیہ معلومات فراہم کر رہے تھے۔
بیرونی امداد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گذشتہ کچھ عرصے میں اس گروہ نے ذرائع ابلاغ اور ٹوئٹر پر بھی اپنی شناخت تبدیل کر لی ہے اور اپنی نئی شناخت میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ اپنے الحاق کو بھی ظاہر کر دیا ہے۔
تاہم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کے اظہار سے کئی ماہ پہلے ہی ’انصارِ بیت المقدس‘نے ایسے اشارے دینا شروع کر دیے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ گروہ دولتِ اسلامیہ کی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ’انصارِ بیت المقدس‘کے رابطے اخوان المسلمون کے ساتھ بھی ہیں، بلکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروہ دراصل اخوان المسلمین کی عسکری شاخ ہے۔
لیکن یہ گروہ کئی مرتبہ اخوان المسلمین کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے اور اخوان المسلمین بھی کئی موقعوں پر اس گروہ کی کاررائیوں پر تنقید کر چکی ہے۔ ان کاررائیوں میں وہ حملہ بھی شامل ہے جو اس گروہ نے جمعرات 29 جنوری کو شمالی سینا میں کیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح یہ گروہ مبینہ طور پر غزہ سے سرنگوں کے ذریعے اسلحہ حاصل کرتا ہے اس سے لگتا ہے کہ اسے فلطسینی شدت پسند گروہ حماس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تاہم ابھی تک ان رابطوں کے کوئی واضح ثبوت منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔







