مصر: پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں میں 18 ہلاک

اتوار کو ہلاک ہونے والے مظاہرین کا تعلق قاہرہ کے علاوہ شمالی شہر اسکندریہ سے تھا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشناتوار کو ہلاک ہونے والے مظاہرین کا تعلق قاہرہ کے علاوہ شمالی شہر اسکندریہ سے تھا۔

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 18 ہوگئی ہے۔

طبی حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں مظاہرین ان جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں قاہرہ کے مشرقی علاقوں میں ہوئی ہیں جو کالعدم جماعت اخوان المسلمین کا گڑھ ہیں۔

پولیس نے 400 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔

یہ مظاہرے مصر میں اس انقلاب کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ہوئے جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک ملک کر حکومت کرنے والے صدر حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

گذشتہ برس بھی اس موقع پر درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رواں برس انقلاب کی سالگرہ سے قبل مصر کے اہم شہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ دارالحکومت قاہرہ میں اہم مقامات تک عوام کی رسائی روک دی گئی تھی۔

مظاہرے مصر میں اس انقلاب کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنمظاہرے مصر میں اس انقلاب کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئے

مصری وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار قاہرہ میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہوا جبکہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کا تعلق قاہرہ کے علاوہ شمالی شہر اسکندریہ سے تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو شدت پسند دریائے نیل کی ڈیلٹا کے علاقے میں بم نصب کرتے ہوئے دھماکہ ہونے سے ہلاک ہوئے۔

سنیچر کو قاہرہ کے مرکزی علاقے میں ایک مظاہرے کے دوران فائرنگ سے شائمہ السباغ نامی کارکن ماری گئی تھی۔

ان کی جماعت نے اس ہلاکت کا ذمہ دار پولیس کو قرار دیا تھا۔

مصری حکام نے شائمہ کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

شائمہ کو اتوار کو اسکندریہ میں سپردِ خاک کیا گیا اور اس موقع بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

.